اسلام آباد میں آئی پی ایس فورم کے مطابق، نئی عالمی سیاسی تبدیلیاں پاکستان کے لیے مسئلہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ میں دوبارہ اجاگر کرنے کا سنہری موقع فراہم کرتی ہیں۔

حالیہ جیوپولیٹیکل تبدیلیاں پاکستان کے لیے مسئلۂ کشمیر کو سفارتی طور پر آگے بڑھانے کا اہم موقع فراہم کرتی ہیں — آئی پی ایس فورم

اسلام آباد، انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (IPS) میں ’کشمیر: موجودہ صورتحال اور مستقبل کے ممکنہ حالات‘ کے عنوان سے ہونے والی نشست میں کشمیری ڈائیسپورا کے رہنماؤں اور عالمی سیاسی تجزیہ کاروں نے کہا کہ پاکستان کی بین الاقوامی سفارتی پوزیشن پہلے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہو چکی ہے، جسے کشمیر کے مسئلے کو اقوامِ متحدہ (UN) اور او آئی سی (OIC) جیسے عالمی اداروں میں دوبارہ اجاگر کرنے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

قاتلوں کو قانون کی گرفت سے بچانے کے لیے آئی جی اسلام آباد کی کرامات

شرکاء کے مطابق، 2025 سے قبل کشمیر عالمی فورمز پر نسبتاً نظر انداز ہو چکا تھا اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو وہ توجہ نہیں مل رہی تھی جس کی وہ مستحق تھیں۔ تاہم، مئی 2025 کے بعد کی صورتحال — جس میں پاکستان نے خطے میں نمایاں اسٹریٹجک برتری حاصل کی — نے عالمی سطح پر کشمیر کو ایک بار پھر امن و سلامتی کے لیے اہم خطرے کے طور پر اجاگر کیا ہے۔

پاکستان–امریکہ تعلقات کا نیا سفارتی کردار

مقررین نے زور دیا کہ پاکستان کو چاہیے کہ وہ امریکی قیادت کے ساتھ اپنے مضبوط ہوتے تعلقات کو سفارتی حکمتِ عملی کے طور پر استعمال کرے اور بھارت پر دباؤ بڑھے کہ وہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمی برادری کو جنوبی ایشیا کے جوہری خطرے سے آگاہ کرنے کی بھی ضرورت ہے، جو مسئلہ کشمیر کے حل تک برقرار رہے گا۔

انسانی حقوق، سیاسی قیدی اور ڈیموگرافک تبدیلیوں پر توجہ

شرکاء نے کہا کہ کشمیر کوئی سرحدی تنازع نہیں، بلکہ حقِ خودارادیت کے بنیادی انسانی حق کی عدم فراہمی کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں:

انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں
کشمیری قیادت کی اسیری
آبادیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے عالمی سطح پر جواب دہ بنایا جائے۔

کسٹمز میرین یونٹ کی بڑی کارروائی — 48,932 لیٹر اسمگل شدہ ڈیزل اور تین لانچیں برآمد

قومی اتفاقِ رائے اور یکساں کشمیر پالیسی

اس موقع پر مقررین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان کی کشمیر پالیسی کی کامیابی ایک متفقہ قومی مؤقف سے مشروط ہے، جسے UN، OIC اور دیگر عالمی پلیٹ فارمز کے لیے ایک جامع پالیسی دستاویز کی صورت میں مرتب کیا جانا چاہیے۔ وزارتِ خارجہ میں ایک خصوصی پیشہ ورانہ قانونی و سیاسی ٹیم تشکیل دینے کی بھی تجویز سامنے آئی تاکہ پاکستان کا مؤقف عالمی سطح پر زیادہ مؤثر انداز سے پیش کیا جا سکے۔

کشمیری ڈائیسپورا کا کردار

فورم میں کہا گیا کہ عالمی سطح پر وکالت کی کامیابی کے لیے کشمیری ڈائیسپورا میں اتحاد نہایت اہم ہے۔ انہیں چاہیے کہ وہ:

عالمی اداروں
انسانی حقوق کے فورمز
بین الاقوامی قانونی پلیٹ فارمز پر زیادہ متحرک کردار ادا کریں اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پالیسیوں کے اثرات کو اجاگر کریں۔

پاکستان اور مسئلہ کشمیر—عالمی فورمز پر تاریخی مؤقف

پاکستان نے ہمیشہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی بنیاد پر کشمیر کے حل کی وکالت کی ہے۔ UN، OIC اور دیگر عالمی اداروں میں پاکستان کے مستقل مؤقف کا محور یہی رہا ہے کہ کشمیری عوام کو ریفرنڈم کے ذریعے فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے۔ موجودہ عالمی حالات — خصوصاً امریکہ، یورپی یونین اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمیاں — پاکستان کے لیے اس مؤقف کو دنیا بھر میں اُجاگر کرنے کا نیا موقع فراہم کرتی ہیں۔
شرکاء کے مطابق، آئندہ چند ماہ پاکستان کے لیے نہایت اہم ہیں۔ اگر اسلام آباد سفارتی لابنگ، عالمی میڈیا انگیجمنٹ، اور موثر پالیسی کوآرڈینیشن کو مربوط انداز میں آگے بڑھائے تو مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے عالمی دباؤ بڑھانے کا حقیقی امکان موجود ہے۔
انہوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ کشمیری عوام کے اندرونی و عالمی اتحاد ہی مستقبل کی جدوجہد کو زیادہ مؤثر بنا سکتا ہے۔

About The Author

اپنا تبصرہ لکھیں