قاتلوں کو قانون کی گرفت سے بچانے کے لیے آئی جی اسلام آباد کی کرامات

اسلام آباد پولیس کے آئی جی علی ناصر رضوی اپنی تعیناتی کے بعد سے یہاں با اثر ملزموں کے مینیجر کا کردار ادا کرتے آ رہے ہیں. یہاں قارئین کی آسانی کے لیے لفظ مینجر استعمال کیا ہے تاہم مقامی زبان میں ان کو طاقتور لوگوں کا کنڈری کہا جاتا ہے. با اثر ملزم قتل میں ملوث ہو ، دہرے قتل میں یا اس سے بھی زیادہ سنگین جرم میں جو (کنڈری) مینجر لگا ہوا ہے وہ مجرم کو قانون کی گرفت سے ایسے کاریگری کر کے نکالتا ہے جیسے مکھن سے بال.تازہ واقعہ یوں ہے کہ گزشتہ ہفتے یکم دسمبر کی رات اسلام آباد کی شاہراہ دستور پر جسٹس آصف کے 16 سالہ بیٹے ابو زر نے اپنی بڑی گاڑی کے نیچے کچل کر دو غریب لڑکیوں کو قتل کر دیا.واقعہ کے فوری بعد قاتل اپنے ساتھ گاڑی میں موجود دوستوں کے ہمراہ موقع سے گھر روانہ ہو گیا.اس موقع پر پولیس نے ایمبولینس کے زریعے مقتول لڑکیوں تابندہ اور ثمرین کو اسپتال منتقل کیا. چوںکہ قاتل بااثر تھا اس لیے فوری طور پر آئی جی اسلام آباد قاتل کے دامن سے لہو کی چھنٹیں اور خنجر سے داغ صاف کرنے کے لیے قاتل ابو زر کے والد کے ساتھ سر جوڑ کر بیٹھ گئے.

اگلی صبح قاتل کے باپ نے قاتل کو حوالہ پولیس کیا مگر ایسے کہ جیسے ملزم کو پولیس کی میزبانی میں دے دیا گیا. پولیس نے کمال میزبانی کے فرائض ادا کرتے ہوئے ملزم کا عدالت سے 4 روزہ ریمانڈ حاصل کر لیا. ریمانڈ پر پولیس کی مہمان نوازی میں ملزم کو حوالات کی بجائے پانچ ستارہ سہولیات پرمبنی رہائش گاہ فراہم کی گئی.جبکہ اس دوران ملزم کے والدین کا ملزم کے پاس باربار آنا جانا بھی ممکن بنایا گیا. پولیس نے بر وقت ملزم کا میڈیکل کروانا بھی مناسب نہ سمجھا جس سے ملزم کا واردات کےوقت منشیات اور شراب کے نشے میں دھت ہونے کا ثبوت مل پاتا.جبکہ واردات کے وقت ملزم واقعہ کی سنیپ چیٹ بنا رہا تھا تو ایسے میں ملزم کا موبائل فون برآمد کروانا انتہائی ضروری تھا مگر پولیس نے اس کو مہمان نوازی کے اصولوں کےخلاف سمجھا.دوسری طرف واردات کے وقت ملزم کے ہمراہ گاڑی میں موجود دوستوں (خواہ وہ لڑکیاں تھیں یا لڑکے) کی نشاندہی اور ان کی گرفتاری یا گواہی کے لیے طلب کرنے کی زحمت بھی پولیس کی میزبانی پر دھبہ لگانے کے مترادف ہی تھی.

چار روزہ پولیس ریمانڈ کے دوران پولیس کے افسران قانونی کاروائی کے لیے مقتولین کے ورثا کی حوصلہ شکنی اور ان کو دباو اور لالچ دے کر صلح کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے مصروف عمل رہے.بالآخر پولیس کی کوششیں بارآور ثابت ہوئیں اور ہفتہ کے روز مقتولین کے ورٹا نے مقامی عدالت میں صلح کا بیان ریکارڈ کروا دیا.کیس کی سماعت کے موقع پر پولیس نے ملزم کو ہائی پرفائل پروٹوکول فراہم کیا. ملزم کی عدالت آمد اور واپس جانے کی فلمبندی کسی ٹک ٹاکر کے لیے بھی ممکن نہ تھی.جبکہ شائستہ کنڈی کی عدالت میں سماعت کے موقع پر پولیس نے زرائع ابلاغ کے نمائندوں کا بھی عدالت کے قریب جانا نا ممکن بنا دیا.

اس بات سے قطعہ نظر کہ دہرے قتل کے اس مقدمے میں صلح کا عدالتی عمل اتنی تیز رفتاری سے اور قلیل وقت میں کیسے ممکن بنایا گیا.ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ اسلام آباد کا عدالتی نظام فوری یا ایمرجنسی انصاف فراہم کرنے کے قابل ہو گیا ہے. چوں کہ دہرے قتل کے اس مقدمے میں صلح ہو چکی ہے اس لیے ہم ابو زر کو مجرم یا قاتل کہہ سکتے ہیں.میری ناقص رائے کے مطابق صلح کا عمل جرم قبول کرنے کے بعد ہی عمل میں آتا ہے.

آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی کی تعیناتی کے بعد یہ پہلا موفع نہیں ہے کہ دہرے قتل کے مجرم کو پولیس نے قانوں کی گرفت سے بچایا ہو. گزشتہ برس ڈی چوک کے مقام پر سڑک سے دور گرین بیلٹ پر ایک انتہایی با اثر شخص کے بیٹے نے شراب کے نشے میں دھت ہو کر دو افراد کو کچل کر ہلاک کر دیا تھا. دہرے قتل کی اس واردات کے مجرم کو قانون کی گرفت سے محفوظ رکھنے اور مقدمے کو ٹھکانے لگانے کا کارنامہ بھی آئی جی علی ناصر رضوی نے ہی انجام دیا تھا.اس سے بھی قبل 8 جون 2022 کو جب چیف جسٹس شہزاد ملک کی بیٹی نے شراب کے نشے میں دھت ہو کر دو نوجوانوں کو گاڑی کے نیچے کچل کر ہلاک کر دیا تھا. یہ دونوں نوجوان سیور فوڈ کے ویٹرز تھے.اگرچہ اس وقت علی ناصر رضوی اسلام آبادمیں تعینات نہیں تھے. تاہم اس مقدمے میں بھی علی ناصر رضوی نے اپنی تعیناتی کے بعد خصوصی کردار ادا کر کے مقدمے کو ٹھکانے لگایا تھا. اس کے علاوہ علی ناصر رضوی تھانہ ترنول میں پولیس کی تحویل میں ملزم کی ہلاکت کے معاملے کو بھی صاف کرنے میں اپنے فن کا مظاہرہ کر چکے ہیں.

آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی شہر کے بے کس, بے بس اور بے سہارہ عوام کے لیے دستیاب نہیں ہیں. مگر بااثر اور خوشحال لوگوں کے لیے ان کا دل پسیچ جاتا ہے. کچھ عرصہ قپل کا واقعہ ہے کہ ایک یورپی ملک کے سفیر کی اہلیہ ان سے ناراض ہوکر اپنی کسی دوست کے گھر چلی گئیں.تو علی ناصر رضوی اپنے ڈی آئی جی علی رضا کے ہمراہ 6 گھنٹے تک سفیر محترم کے گھر بیٹھ کر ان کی اشک شوئی کرتے رہے. جبکہ اس دوران ساری پولیس فورس سفیر محترم کی اہلیہ کی تلاش میں سرگرم رہی.

About The Author

اپنا تبصرہ لکھیں