کرسچن ہسپتال ٹیکسلا ایک ایسا مسیحی خیراتی ہسپتال یے جس سے فیض یاب ہونے والی اکثریت مسلم مریضوں کی ہے
پاکستان کے تاریخی و ثقافتی طور پر معروف ترین شہر ٹیکسلا میں مسیحی مسیحا J.G. Martin نے 1920 میں ایک خیراتی علاج گاہ کرسچن ہسپتال ٹیکسلا کا قیام عمل میں لایا ۔ ہسپتال میں صاحبان استطاعت نے دل کھول کر خیرات دی اور بیماروں کو علاج کی مفت سہولت میسر آ تی رہی ۔ 2001 میں ڈاکٹر ارنسٹ لعل نے بطور ڈائریکٹر عہدہ سنبھالا لیکن ہسپتال کے معاشی حالات نامساعد رہے ۔ ہسپتال سے مستفید ہونے والوں میں 98 فی صد مریضوں کا تعلق مسلم اکثریت سے ہے ۔
یہاں 2024 میں ڈاکٹر ندیم ڈیوڈ بطور ڈائریکٹر تعینات ہوئے جس وقت ہسپتال کئ معاملات میں ناکامی سے دو چار تھا ۔ آئے دن متنازع خبریں شائع ہوتی رہتی تھیں ۔1995 سے ہسپتال میں مختلف عہدوں پر تعینات رہنے والے ڈاکٹر ندیم ڈیوڈ نے نہایت تحمل اور خاموشی کے ساتھ کام کام اور صرف کام کو اپنا شعار بنایا اور ڈوبتی ناؤ کو سہارا دینے کا عزم مصمم کرلیا ۔ اپنے دیرینہ رفقا،پر خلوص سٹاف اور دیانت داری کے بل بوتے پر نہایت قلیل عرصے میں اپنی مدد آپ کے تحت ہسپتال کی تزئین نو کا آغاز کیا ۔ گذشتہ ہچیس سال سے خیرات تو مفقود ہے لیکن جذبے قائم ہیں حال ہی میں ہسپتال کی تزئین وآرائش کروائی گئی اب یہاں جنرل وارڈ ، گائنی ، ڈینٹل ، ایکسرے ، Orthopedic ، ڈائیلاسز یونٹ ، چوبیس گھنٹے ایمرجنسی ، بلڈ بینک ، الٹرا ساؤنڈ ، فارمیسی ، پبلک ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ ، ویکسینیشن ، اینٹی نیٹل جیسے ڈیپارٹمنٹ نہ صرف بحال ہیں بلکہ مستعدی سے خدمات سر انجام دے رہے ہیں ۔
وسیع و عریض رقبے پر پھیلا یہ تاریخی ہسپتال بلا شبہ ایک تاریخی و ثقافتی ورثہ ہے ۔ ایک ایسا اثاثہ ہے جس پر توجہ درکار ہے ۔ بین الاقوامی سطح پر بہترین روابط اور تعلقات استوار کیے ہوئے ہے ۔ یہاں مکانات سٹاف کے لیے سو مکانات موجود ہیں ۔ رہایش گاہوں میں بارہ بنگلے بھی شامل ہیں ۔ 1930 میں قائم قیمتی پتھر اور لکڑی کی آرائش سے تعمیر شدہ پرائیوٹ رومز بھی موجود ہیں جو وسائل کی عدم دستیابی کے باعث ویران پڑے ہیں ۔ اگر حکومت توجہ دے تو پہلے دور کی طرح ملک بھر سے مریض ہسپتال کے جدید اور معیاری علاج سے مستفید ہونے کے لیے یہاں آ کر مختصر قیام پذیر ہو سکتے ہیں ۔ علاج ارزاں ہے لیکن مہنگی ادویات بعض اوقات مریضوں کی استطاعت سے باہر ہوتی ہیں ۔ اگر حکومت وقت اور محکمہ صحت پنجاب اس نہایت اہم ہسپتال پر توجہ دیں تو عوام کو صحت کی ارزاں سہولت میسر آ سکتی ہے
ہسپتال میں ایمبولینسوں کی کمی ہے دیگر معاشی وسائل کے ساتھ ساتھ ہیریٹیج سٹی کے تناظر میں تاریخی مقامات کی بحالی کے اقدامات متوقع ہیں ۔ اگر کرسچن ہسپتال میں موجود قیمتی پرائیوٹ رومز اور تاریخی جگہوں کو ثقافتی ورثہ کے حوالے سے بھی بحال کیا جائے تو بین الاقوامی سطح پر سیاحوں اور تجزیہ کار ماہرین طب کی دلچسپی کے عنصر کو فروغ دیا جا سکتا ہے ۔
ہسپتال کے مسائل و وسائل پر گفتگو تو جاری رہے گی اب بات کرتے ہیں کچھ تفریحی اور صحت مند سرگرمیوں کی کہ کس طرح مصروف ترین زندگی سے وقت پس انداز کرکے ہسپتال انتظامیہ نے ماہ آزادی میں قومی سطح کا چار روزہ آزادی باسکٹ بال ٹورنامنٹ منعقد کیا ۔ یہ مقابلے اگست کے وسط میں چار روز کے لیے منعقد کئے گئے ۔ ان میں صرف مسیحی کھلاڑیوں نے شرکت کی ۔ پاکستان کے چھے شہروں فیصل آباد ، ایبٹ آباد ، سرگودھا ، ٹیکسلا ، اسلام آباد اور لاہور کی ٹیمیں شامل تھیں ۔ اس کے منتظمین میں کرسچن ہسپتال کی انتظامیہ کے ہمراہ Peace Ambassador Society لاہور شامل تھے۔ یہ مقابلے پول اے ور پول بی کے تحت منعقد کئے گئے ۔ ججز اور ریفریز میں پاکستان باسکٹ بال فیڈریشن اسلام آباد کے عہدے داران شامل تھے
مقابلے کا فائنل اسلام آباد اور لاہور کی ٹیموں کے مابین تھا ۔ باسکٹ بال ٹیم لاہور فتح یاب ہوئی ۔ اول انعام کے لیے پچاس ہزار ، دوم انعام کے لیے تیس ہزار جب کہ سوم انعام کے لیے بیس ہزار کا نقد انعام مختص کیا گیا تھا ۔ فاتح ٹیموں میں ٹرافیاں اور اسناد تقسیم کی گئیں شرکت کرنے والی تمام ٹیموں میں بھی سرٹیفیکیٹس تقسیم کیے گئے ۔
تقریب کے مہمان خصوصی وزیر برائے اقلیتی امور سردار رامیش سنگھ ارورا تھے۔ معززین علاقہ میں صوبائی وزیر پنجاب محسن ایوب ، ڈاکٹر ماجد ایبل ، اسسٹنٹ کمشنر ٹیکسلا ماریہ جاوید ، ڈی ایس پی ٹیکسلا سرکل، پولیس انتظامیہ کے اعلیٰ افسران اور میڈیا نمائندگان نے شرکت کی ۔ مہمان خصوصی سردار رامیش سنگھ سمیت ڈاکٹر ندیم ڈیوڈ ، شکیل صابر ایڈمن افسر ،وکٹر ناصر ، مسٹر روحیل ، مسٹر اجمل، پیس ایمبیسیڈر سوسائٹی سے عرفان فرانسس کو یادگاری شیلڈ پیش کی گئی ۔
میڈیا ٹاک میں مہمان خصوصی نے ہسپتال کی خیراتی وسائل کی عدم دستیابی کے باوجود احسن کارکردگی کو سراہا اور یقین دہانی کرائی کہ ہسپتال کو معاشی کمک فراہم کرنے میں ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ ڈائریکٹر کرسچن ہسپتال ڈاکٹر ندیم ڈیوڈ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہسپتال بلا تفریق تمام مریضوں کو علاج کی سہولت فراہم کر رہا ہے ۔ خیراتی ہسپتال کا خیرات کے بغیر چلنا ناممکن ہوتا ہے لیکن ہم پر امید ہیں کہ حکومت وقت اس تاریخی ہسپتال کی بحالی و بقا کے لیے ہماری معاونت کرے گی ۔