literary tribute to the cultural and linguistic journey of Urdu in Central Asia, highlighting Dr. Rauf Amir’s contributions in Kazakhstan.

“پہلے مر کے دکھاؤ !”۔۔۔(صنفی ہراسگی )

تحریر:عفت رؤف

عورت کے خلاف مزاحمت اور اس کی تضحیک ایک مخصوص ذہنیت ہے خواہ آپ کتنے ہی بڑے عہدے پر فائز ہوں یا پھر تعلیم یافتہ ترین خاتون پر ڈرائیور مالی گارڈ یا پھر گھریلو کام کاج والا شخص صرف “مرد” ہونے کی وجہ سے رعب بھی جمائے گا اور بیوقوف سمجھ کر پیسے بھی ہڑپ کر جائے گا خواتین جابجا ہراسگی کا شکار ہوتی ہیں خال خال ہمت کر کے پولیس کچہری تک رسائی حاصل کرتی ہیں لیکن انصاف کو نظام پیچیدہ،ناکافی اور مردوں کے ساتھ منضبط ہونے کے باعث نئے مسائل شروع ہو جاتے ہیں ملازمت کے مقامات پر تو اکثر اوقات خواتین صرف دل بہلانے کا سامان سمجھی جاتی ہیں جو سمجھوتہ کرے لیونگ ریلیشن شپ میں رہے وہ جلد کامیاب ہو جاتی ہے لیکن جس کے ارادے پختہ ہوں اور توجہ صرف پیشہ وارانہ امور پر مرکوز رہے وہ سنگلاخ حالات اور دشواریوں کا سامنا کرتی ہے اکثر کامیاب خواتین نے مشکلات کا ذکر کیا لیکن ان کی کامیابی اور مقام دیکھ کر رشک آیا
۔شوگر ڈیڈی،شوگر ممی جیسی اصلاحات کی تفہیم بھی شرمناک ہے اور سب سے بڑھ کر ‘لیونگ ریلیشن شپ “جو معاشرے کا ناسور بنتا جا رہا ہے
لیکن مرد معصوم اور عورت مجرمہ۔۔۔۔
ہمیں بطور معزز شہری لیونگ ریلیشن شپ کسی بھی لحاظ سے قابل قبول نہیں۔۔۔
لیکن جب یہ صرف عورت کی غلطی کے طور پر استعمال ہو تو ناانصافی ہے
نور مقدم کیس میں جسٹس باقر نجفی کی ایک پوسٹ سوشل میڈیا پر وائرل ہے جس میں ان کے ریمارکس ہیں

I observed that the present case is a direct result of a vice spreading inthe upper society which we know as “LIVING RELATIONSHIP “In which the societal compulsions are ignored so as to defy not only the law of land but also the personal law under Islam shariah which is a direct revolt against Almighty Allah
The young generation must know its horrible consequences such as inthe present case which is also a topic for the social reformist to discuss in their circles.
یہ ایک افسوس ناک پہلو ہے کہ عورت پر قتل ہونےکے بعد بھی الزام تراشی جاری ہے۔۔ لیکن کسی مرد کے مقدمے میں یہ ریمارکس کیوں نہیں دئیے جاتے کہ قتل کی وجہ لیونگ ریلیشن شپ ہے؟کیا وہ تمام گھریلو خواتین جو تیزاب گردی، آگ لگانے کے واقعات ،جنسی زیادتی اوربہیمانہ قتل کا شکار ہوتی ہیں وہ سب لیونگ ریلیشن شپ میں ہوتی ہیں؟
جسٹس باقر نجفی صاحب نے نورمقدم قتل کیس کے فیصلے میں جو ریمارکس دئیے وہ قابل افسوس ہیں۔۔۔
اگر یہی عدالتیں جنسی زیادتی کے مقدمات اور خواتین کے خلاف جرائم کے مقدمات کے فیصلے انصاف پر کرتیں تو غریب خواتین تو دور ایک مضبوط خاندانی پس منظر رکھنے والی لڑکی کا بہیمانہ قتل نہ ہوتا۔۔۔۔
کیا جو لڑکے لیونگ ریلیشن شپ کے دوران قتل ہوئے ان کے مقدمات کے فیصلوں پر بھی یہی ریمارکس دئیے گئے ؟
کاش شریعت کو رسمی دعووں سے نکل کر اصل روپ میں نافذ کیا جاتا عورت کو تکریم دی جاتی اس کی ہر بات ہر سچ کو جھوٹ نہ سمجھا جاتا ہر تکلیف کو ڈرامے کا نام نہ دیا جاتا اس کی حق تلفی پر خاموش رہنے اور رفع دفع کے مشورے نہ دئیے جاتے قتل ہونے پر بھی الزام تراشی جاری نہ رہتی تو شریعت کا حوالہ عملی ثبوت کے طور پر دیا جاتا
معلوم ہوا کہ
انسان کی زندگی بہت قیمتی ہے لیکن چند مردوں کے نزدیک عورت بالکل بےوقعت ہے

صرف ہراسیت کو دیکھیں رپورٹ کریں،درخواست دیں،انتظار کریں،خوار ہوں،تماشا بنیں،اور جب تک قتل نہ ہو جائیں محض ہراسیت ایک معمولی سا جرم ہے جس پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ماتحت محرر صاحبان بھی تیوری چڑھا کر تبصرہ کرتے ہیں کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر مقدمات نہیں ہوتے کیونکہ جب تک عورت قتل نہ ہو جائے مقدمہ سنگین نہیں ہوتا ۔۔۔
ایک بار ایک پولیس سٹیشن میں اعلی پولیس افسر کے پاس کسی کام سے جانا ہوا تو وہاں موجود گھریلو تشدد سے زخمی ایک خاتون نے مایوس ہو کر پولیس افسر سے پوچھا؛اگر میاں بیوی کی لڑائی میں پولیس کچھ نہیں کر سکتی اور زخمی ہونے کے باوجود شوہر کے خلاف مقدمہ درج نہیں ہو سکتا تو کیا میں پھر مر کے دکھاوں؟پولیس افسر نے طنزیہ جواب دیا کہ ہاں یہ تجویز زبردست ہے “پہلے مر کے دکھاو”اور ماتحتوں کے ہمراہ ایک سلگتا ہوا قہقہہ لگایا جو یقینا خاتون کے زخموں پر نمک پاشی کر رہا تھا لیکن نورمقدم کیس فیصلے میں ریزہ ریزہ مر کے دکھا دیا لیکن الزام تراشی اور تضحیک جاری رہی
خود میرے پاس مردوں کی ہراسیت کے متعدد ثبوت موجود ہیں جو ایک دلچسپ تصنیف بن سکتی ہے

About The Author

اپنا تبصرہ لکھیں