امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ٹیکنالوجی ارب پتی ایلون مسک کے درمیان سیاسی اختلافات میں شدت آ گئی ہے، جب صدر ٹرمپ نے اس سرکاری ایجنسی DOGE (ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی) کو مسک کے کاروبار پر نظرثانی کے لیے استعمال کرنے کا اشارہ دیا — یہ وہی ایجنسی ہے جسے خود ایلون مسک نے قائم کیا تھا۔
بی بی سی کے مطابق، ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا: “ایلون شاید تاریخ میں سب سے زیادہ سبسڈی لینے والا انسان ہے۔ شاید ہمیں DOGE کو اس پر اچھی طرح نظر ڈالنے دینا چاہیے؟ بہت پیسہ بچایا جا سکتا ہے!”
ایلون مسک نے فوری اور سخت جواب دیا: “میں تو کہہ رہا ہوں، سب کچھ ختم کر دو — ابھی!”
تنازع ٹرمپ کے نئے بجٹ بل پر ہے جسے انہوں نے “بگ بیوٹی فل بل” قرار دیا ہے، جس میں دفاع، بارڈر سیکیورٹی اور توانائی کے لیے فنڈز بڑھانے کی تجویز ہے، جبکہ صحت اور خوراک کی امدادی اسکیموں میں کٹوتی کی جا رہی ہے۔
مسک نے اس بجٹ کی سخت مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ حکومتی اخراجات میں کمی کے DOGE مشن کی نفی کرتا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر قومی قرضے کے گراف شیئر کرتے ہوئے لکھا: “یہ گراف کب نیچے جائے گا؟” اور ایسے کانگریس ممبران پر تنقید کی جو خرچ کم کرنے کے وعدے سے منتخب ہوئے مگر اس بل کے حق میں ووٹ دے رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ مسک EV سبسڈی ختم ہونے پر ناراض ہے۔ “وہ بہت ناراض ہے، اور اسے اس سے بھی زیادہ نقصان ہو سکتا ہے۔ DOGE وہ عفریت ہے جو واپس آ کر ایلون کو کھا سکتا ہے،” انہوں نے کہا۔
مسک نے وضاحت کی کہ ان کے نظریاتی موقف کی بنیاد اخراجات میں کمی ہے، نہ کہ ذاتی مفاد، اور Tesla بغیر سبسڈی کے بھی بہتر پوزیشن میں آ سکتی ہے۔
یہ تنازعہ دونوں رہنماؤں کے درمیان اعتماد کے خاتمے کی واضح علامت ہے، جو کبھی حکومتی اصلاحات میں اتحادی سمجھے جاتے تھے۔