یوکرین پر رواں سال کا سب سے بڑا روسی فضائی حملہ، ابو ظہبی میں امریکا کے ساتھ پہلے سہ فریقی مذاکرات کے چند گھنٹے بعد

ویب ڈیسک: یوکرینی حکام کے مطابق روس نے رواں سال اب تک کا سب سے بڑا رات بھر جاری رہنے والا فضائی حملہ کیا، جو اس وقت سامنے آیا جب چند گھنٹے قبل ہی کیف، ماسکو اور واشنگٹن کے نمائندوں نے جنگ کے آغاز کے بعد پہلی مرتبہ سہ فریقی مذاکرات کیے اور بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

روسی سرکاری خبر رساں ادارے TASS نے ایک ذریعے کے حوالے سے ہفتے کے روز بتایا کہ سہ فریقی مذاکرات کا دوسرا دن بھی جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق جمعہ کی طرح ہفتے کے روز ہونے والی بات چیت بھی متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابو ظہبی میں بند کمرے میں ہو رہی ہے۔

سی این این اردو کے مطابق، ان دونوں مذاکراتی ادوار کے درمیان یوکرین کے دارالحکومت کیف پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے۔ یوکرینی فضائیہ کے مطابق فضائی دفاعی نظام کو فوری طور پر فعال کیا گیا۔ کیف میں موجود CNN کے صحافیوں نے شہر میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سننے کی تصدیق کی۔

کیف کے میئر ویٹالی کلچکو کے مطابق ان حملوں میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور چار افراد زخمی ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ گرنے والے ملبے سے آگ بھڑک اٹھی اور کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا، جبکہ تقریباً 6,000 اپارٹمنٹ بلاکس کو حرارت (ہیٹنگ) کی فراہمی معطل ہو گئی اور شہر کے بعض حصے پانی کی سپلائی سے بھی محروم ہو گئے۔ ہفتے کی صبح مقامی وقت کے مطابق کیف کا درجہ حرارت منفی 12 ڈگری سینٹی گریڈ (10 ڈگری فارن ہائیٹ) تھا۔

یوکرین کے شمال مشرق میں واقع دوسرے بڑے شہر خارکیف پر بھی حملہ کیا گیا۔ شہر کے میئر ایہور تیریخوف کے مطابق حملوں میں ایک زچگی ہسپتال اور بے گھر افراد کے لیے قائم ایک ہاسٹل کو نقصان پہنچا۔ ان حملوں میں کم از کم 19 افراد زخمی ہوئے، جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے۔

یوکرینی صدر وولوڈی میر زیلنسکی نے ہفتے کے روز بتایا کہ روس نے رات بھر میں 370 سے زائد ڈرونز اور 21 میزائل داغے۔ ان حملوں کا نشانہ کیف کے علاوہ سمی اور چرنیہیف بھی بنے۔ زیلنسکی کے مطابق حملے خاص طور پر یوکرین کے توانائی کے شعبے پر مرکوز تھے، جو شدید سردی کے موسم میں انتہائی اہم حیثیت رکھتا ہے۔

یہ حملے اس وقت کیے گئے جب یوکرین اور روس کے وفود امریکی نمائندوں کے ساتھ بات چیت کے پہلے دن کا عمل مکمل کر چکے تھے۔

روسی خبر رساں ادارے TASS کے مطابق مذاکرات میں سب سے بڑا اور بنیادی تنازع اب بھی علاقائی حدود کا مسئلہ ہے۔ مذاکرات سے قبل ہی یہ سمجھا جا رہا تھا کہ علاقہ ہی واحد بڑا مسئلہ ہے جس پر فریقین کے درمیان اتفاق نہیں ہو پا رہا۔ کریملن ایک بار پھر اس مؤقف پر قائم ہے کہ یوکرین کو مشرقی ڈونباس کے علاقے سے فوجی انخلا کرنا ہوگا، جسے کیف مسلسل مسترد کرتا رہا ہے۔

ڈونباس کا خطہ دو کوئلے سے مالا مال علاقوں ڈونیسک اور لوہانسک پر مشتمل ہے، جو ماضی میں یوکرین کی صنعتی معیشت کا مرکز رہے ہیں۔ اس علاقے میں روسی زبان بولنے والی آبادی کی نمایاں تعداد موجود ہے، اور یہی وہ خطہ تھا جہاں 2014 میں صدر ولادیمیر پوتن کی جانب سے یوکرین کو غیر مستحکم کرنے اور کنٹرول حاصل کرنے کی مہم کا آغاز ہوا۔

یہ علاقہ صنعتی شہروں، ریلوے لائنوں اور سڑکوں پر مشتمل ایک مضبوط دفاعی پٹی بھی رکھتا ہے، جو یوکرین کی فوجی سپلائی لائن اور فرنٹ لائن کی بنیاد ہے۔ کیف نے برسوں اس علاقے کو مضبوط بنانے میں صرف کیے ہیں، اور اس کا نقصان مشرقی یوکرین کے بقیہ حصے کو غیر محفوظ بنا سکتا ہے۔

ابو ظہبی میں ہونے والے مذاکرات میں روس کی جانب سے ایک اعلیٰ سطحی فوجی وفد شریک ہے، جس میں ایک سینئر خفیہ ایجنسی کے سربراہ اور فوجی انٹیلی جنس چیف شامل ہیں۔ یوکرین کی نمائندگی اعلیٰ سفارتکاروں اور سیکیورٹی حکام نے کی، جبکہ امریکا کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف، ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور وائٹ ہاؤس کے مشیر جوش گروئن بام شریک ہوئے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے یوکرین پر امن معاہدہ قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالا ہے، حالانکہ اس حوالے سے شدید خدشات موجود ہیں کہ ایسا کوئی معاہدہ روس کے حق میں جا سکتا ہے۔

تقریباً چار سال قبل مکمل حملہ شروع کرنے کے بعد روس اس وقت یوکرین کے اس 20 فیصد علاقے پر قابض ہے جسے بین الاقوامی قوانین کے تحت یوکرین کا خودمختار حصہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس میں تقریباً پورا لوہانسک، اور ڈونیسک، خیرسون اور زاپوریزیا کے بعض حصے شامل ہیں۔

جمعہ کے روز مذاکرات کے اختتام پر یوکرین کے مرکزی مذاکرات کار رستم عمروف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر لکھا کہ بات چیت کا مرکز ایک “باعزت اور دیرپا امن” کا حصول تھا، اور انہوں نے امریکا کا ثالثی کردار ادا کرنے پر شکریہ ادا کیا۔

About The Author

اپنا تبصرہ لکھیں