نیویارک میں محفوظ ‘عالمی خزانہ’: کیا یورپی ممالک اپنا سونا امریکہ سے واپس نکال لیں گے؟

نیویارک کی مشہور لبرٹی سٹریٹ پر واقع امریکی فیڈرل ریزرو کے ہیڈکوارٹر کے نیچے، سطح زمین سے 25 میٹر گہرائی میں دنیا کا سب سے بڑا معلوم سونے کا ذخیرہ موجود ہے۔ اس زیرِ زمین تجوری میں دنیا بھر کے مرکزی بینکوں اور حکومتوں کی ملکیت کی 5 لاکھ سے زیادہ سونے کی سلاخیں محفوظ ہیں۔
بی بی سی اردو کے مطابق ، تقریباً 6,300 ٹن وزنی اس سونے کی موجودہ مالیت ایک ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہے، جو امریکہ کی مجموعی قومی پیداوار (GDP) کا تقریباً 4 فیصد بنتی ہے۔ یہ فولادی خزانہ 90 ٹن وزنی سٹیل کے سلنڈر نما دروازے سے محفوظ ہے، جسے ایک بار بند کرنے کے بعد اگلے دن سے پہلے کھولنا ناممکن ہے۔

ٹرمپ کی واپسی اور یورپی ممالک کے بڑھتے ہوئے خدشات
دہائیوں تک امریکہ کو ان قیمتی اثاثوں کا سب سے قابلِ اعتماد محافظ سمجھا جاتا رہا، لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ برسرِ اقتدار آنے کے بعد اب یورپی دارالحکومتوں میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ ماہرینِ اقتصادیات اور سیاستدان اب یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا ان کا سونا امریکہ میں اب بھی محفوظ ہے؟

سیاسی عدم استحکام: ٹرمپ کی جانب سے بین الاقوامی وعدوں سے لاتعلقی اور محصولات (Tariffs) پر تنازعات نے یورپی اتحادیوں کو دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے۔

سٹریٹجک خودمختاری: جرمن ماہرِ اقتصادیات ایمانوئل مونش سمیت کئی ماہرین کا ماننا ہے کہ سونا واپس لانا جرمنی کی “سٹریٹجک خودمختاری” کے لیے ضروری ہے۔

اعتماد کا فقدان: جرمن ٹیکس دہندگان ایسوسی ایشن کے صدر مائیکل یاگر کے مطابق، ٹرمپ کی غیر متوقع پالیسیاں سونے تک رسائی کو مشکل بنا سکتی ہیں۔

کیا سونا واپس لانے کی لہر شروع ہونے والی ہے؟
تاریخ گواہ ہے کہ بحران کے وقت سونا ہی آخری سہارا ثابت ہوتا ہے۔ 1960 کی دہائی میں فرانسیسی صدر شارل دیگال نے دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا سونا امریکہ سے واپس منگوا لیا تھا، جس نے 1971 کے عالمی مالیاتی بحران میں فرانس کو بڑے نقصان سے بچایا۔

موجودہ صورتحال میں:

جرمنی: نیویارک میں جرمنی کا تقریباً 1,200 ٹن سونا موجود ہے جس کی مالیت 200 ارب ڈالر ہے۔

ہالینڈ: ہالینڈ پہلے ہی 2014 سے اپنے ذخائر کا بڑا حصہ واپس منتقل کر چکا ہے۔

فیڈرل ریزرو کی خاموشی: بی بی سی منڈو کے رابطے کے باوجود فیڈرل ریزرو نے اس حساس معاملے پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے، جس سے شکوک و شبہات مزید بڑھ رہے ہیں۔

اگرچہ سونے کی منتقلی کے اخراجات اور لاجسٹکس انتہائی پیچیدہ ہیں، لیکن بحرِ اوقیانوس کے دونوں پار بڑھتی ہوئی خلیج اس عالمی مالیاتی نظام کی بنیادیں ہلا رہی ہے جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد سے قائم تھا۔

About The Author

اپنا تبصرہ لکھیں