اسلام آباد کچی بستیوں کی مسماری کے خلاف جے سالک کی سر پر خاک ڈال کر سینکڑوں مسیحوں کے ہمراہ نوحہ خوانی

اسلام آباد: سابق وفاقی وزیر جے سالک نے جمعرات کے روز مسیحی کچی بستیوں کی مسماری کے خلاف یوم نوحہ منعقد کیا. پانچ گھنٹے تک جاری رہنے والی نوحہ خوانی کی اس تقریب میں کچی بستیوں کے مکین سینکڑوں مسیحی مرد و خواتین نے شرکت کی.نوحہ خوانی کی تقریب کی سربراہی کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر جے سالک مسلسل اپنے سر پر خاک ڈال کر حکام کو ظلم سے باز رہنے کی اپیل کرتے رہے.

انہوں نے کچی آبادیوں کی جبری مسماری اور نابالغ مسیحی بچیوں کی جبری شادیوں کے حق میں وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا۔اور فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل کی.

جے سالک نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سر میں خاک ڈال کر احتجاج کرنا اس بات کی علامت ہے کہ حکومت کچی آبادیوں کے مکینوں کی بے بسی اور غربت کاخیال کرے انکے گھروں کو خاک کا ڈھیر نہ بنائے، بلکہ انکی کسمپرسی پر رحم کرے۔ریاست ہمارے حقوق کا عملی تحفظ یقینی بنائے، اور تمام کچی آبادیوں کو مالکانہ حقوق دے.اسلام آباد میں تقریباًچار ہزار خاندان اور 20 ہزار سے زائد افراد بے دخلی کے خطرے سے دوچار ہیں۔

صدر، وزیر اعظم اور دیگر اعلیٰ حکام سے نوٹس لینے کی اپیل کرتے ہیں.ہوئےجے سالک نے مزید کہا کہ کچی آبادیوں کو مسمار کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کی جائے اور غریبوں کے سرسے چھت نہ چھینی جائے ۔ لازم ہے کہ اس مسئلے کا حل آئینی اور جمہوری طریقے سے نکالا جائے ۔ یہ معاملہ صرف رہائش کا نہیں بلکہ انسانی اور اقلیتی حقوق کابھی ہے ۔ کچی بستیوں کے مکین بار بار کہہ رہے ہیں کہ ریاست کا درجہ ماں جیسا ہوتا ہے ، اس لئے اسے ماں جیسا احساس اور رحم بھی دکھانا چاہیے ۔

جبری شادی اور تبدیلی مذہب کے حوالے سے ماریہ بی بی کے خلاف وفاقی آئینی عدالت کے حالیہ فیصلے پراپنے تحفظات ظاہر کرتے ہوئے جے سالک کا کہنا تھا ایسی عدالتی فیصلوں سے کمزور طبقات اور اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ ناممکن ہے۔ اس فیصلے سے مسیحی برادری اپنی نابالغ بیٹیوں کی جبری شادی و تبدیلی مذہب کے حوالے سے عدم تحفظ کا شکار ہوئی ہے اور یہ فیصلہ ایسے واقعات کی حوصلہ افزائی کا باعث بنے گا۔ اعلیٰ عدالتوں سے ہماری درخواست ہے کہ جبری شادی وتبدیلی مذہب کے مسئلے کو انسانی بنیادوں پر دیکھے او ر پرکھے ۔اس موقعہ پر نوحہ خوانی کے شرکاء نے زرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس ملک کے برابر کے شہری ہیں، اور باعزت رہائش ہمارا آئینی حق ہے ۔

About The Author

اپنا تبصرہ لکھیں