حقیقی تبدیلی کا انحصار پالیسی سازی کی بجائے موثر حکمرانی پر ہے: احسن اقبال

اسلام آباد: وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ موثر عملدرآمد کے بغیر اصلاحات نامکمل ہیں،مستقبل کے پروگراموں کو حکومتی اصلاحاتی حکمت عملی سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے.روایتی طریقہ کار ترک کر کے جامع اور نتیجہ خیز اصلاحات اپنانا ہوں گی.

جمعہ کے روز اسلام آباد میں (ایس ڈی پی آئی) اور اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) پاکستان کے زیر اہتمام ایک اعلیٰ سطح کے پالیسی مکالمے سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کی حقیقی تبدیلی کا انحصار محض پالیسی سازی نہیں بلکہ موثر حکمرانی پر ہے ، مضبوط بلدیاتی نظام کے بغیر اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ادھوری رہے گی اور صوبائی دارالحکومت دور دراز علاقوں کے مسائل حل نہیں کر سکتے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ معاشی و انتظامی چیلنجز کے تناظر میں شواہد پر مبنی اصلاحات کو فوری عملی شکل دینا، خدمات کی فراہمی بہتر بنانا، شفاف مالیاتی نظم و نسق کو فروغ دینا اور وفاقی، صوبائی و ضلعی سطح پر ادارہ جاتی کارکردگی کو مضبوط بنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ حکمرانی ہی تبدیلی اور جمود کے درمیان اصل فرق پیدا کرتی ہے اور یہ شہریوں کی روزمرہ زندگی میں خدمات کی فراہمی، تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان میں منصوبوں کی کمی نہیں بلکہ مسئلہ موثر عملدرآمد اور ادارہ جاتی کمزوری ہے اس لئے روایتی طریقہ کار ترک کر کے جامع اور نتیجہ خیز اصلاحات اپنانا ہوں گی۔ انہوں نے زور دیا کہ آئندہ اصلاحات میں صوبائی اور نچلی سطح کو یکساں اہمیت دی جائے اور اس عمل میں حکومت کے ساتھ ساتھ تھنک ٹینکس، ترقیاتی شراکت داروں اور سول سوسائٹی کا کردار بھی ناگزیر ہے کیونکہ پاکستان کا اصل چیلنج اپنی صلاحیت کو عملی کارکردگی میں بدلنا ہے جو صرف بہتر حکمرانی سے ہی ممکن ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یو این ڈی پی پاکستان کے نمائندہ سموئیل رزق نے کہا کہ عالمی سطح پر ترقیاتی وسائل محدود ہونے کے باوجود حکمرانی کو وہ اہمیت نہیں دی جا رہی جس کی وہ مستحق ہے حالانکہ پائیدار ترقی کے لئے یہ بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس این جی ٹو پروگرام نے مضبوط اداروں کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے جو بحرانوں اور مالی مشکلات کا مقابلہ کر سکیں۔ انہوں نے مقامی سطح پر مضبوطی کو موثر حکمرانی کی بنیادقرار دیا۔انہوں نے زور دیا کہ حکمرانی کی اصلاحات کی ملکیت کو مزید مضبوط بنانا ہوگا اور انہیں قومی بجٹ اور ترقیاتی منصوبہ بندی میں شامل کرنا ہوگا۔

ایس ڈی پی آئی کے سربراہ ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے جہاں جغرافیائی سیاسی کشیدگیاں اور علاقائی تبدیلیاں حکمرانی کے نظام کو زیادہ متحرک اور موثر بنانے کی متقاضی ہیں۔ یہ مکالمہ”اڑان پاکستان“ پروگرام کے تحت ہونے والی حالیہ قومی سطح کی گفتگو کو صوبائی تناظر میں آگے بڑھانے کی کوشش ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی اقدامات کو وسعت دے کر ہم قومی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

یو این ڈی پی کی نائب نمائندہ وان نگوین نے کہا کہا کہ ایس این جی ٹو پروگرام کا مقصد صوبائی سطح پر منصوبہ بندی، ہم آہنگی اور خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانا ہے۔ ایس ڈی پی آئی کی آزادانہ تحقیق آئندہ اصلاحات کے لئے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔

برطانوی ادارے ایف سی ڈی او کے نمائندہ میٹ کلینسی نے بھی خطاب کیا. انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کے تحت پنجاب اور خیبر پختونخوا میں اہم ادارہ جاتی اصلاحات کی گئیں جن میں منصوبہ بندی کے نظام، ڈیجیٹل پی سی ون عمل، آڈٹ نظام، پنشن اصلاحات اور مربوط بجٹ سازی شامل ہیں۔

About The Author

اپنا تبصرہ لکھیں