اسلام آباد: سابق وفاقی وزیر جے سالک کااسلام آباد میں قائم کچی آبادیوںمیں مقیم ہزاروں مسیحی رہائشیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے اپنی رہائشگاہ سے جی پی او اسلام آباد تک تنہا مارچ کیا. ،کچی آبادیوں کے مکینوں کو مالکانہ حقوق دینے کا مطالبہ،
اس موقع پر جے سالک کا کہنا تھا کہ ملک اس وقت حالت جنگ میں ہے اور خطے کی صورتحال بھی انتہائی گھمبیر اور تشوشناک ہے، ایسے وقت میں غریب عوام کو بے گھر کرناملک دشمنی اور غداری کے ساتھ وطن عزیز کیخلاف خطرناک سازش ہے،صدر مملکت آصف زرداری ، وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل سیدعاصم منیراسکا نوٹس لیں اور اسلام آباد کے رہائشیوں اور بالخصوص اسلام آباد کی کرسچن کچی آبادیوں کو سی ڈی اےکے ظالمانہ اقدامات سے بچائیں تاکہ ملک میں پیدا ہونے والے اس افراتفری سے بچا جا سکے،
سابق وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ ہم امن پسند لوگ ہیں اور قانون کا احترام کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ دفعہ 144 کا احترام کرتے ہوئے ہزاروں متاثرین کیساتھ مارچ کرنے کے بجائے تنہا مارچ کا فیصلہ کیا ہے، یہ مارچ تنہا نہیں بلکہ کرسچن بستیوں میں بسنے والے ہزاروں رہائشیوں کی درمندانہ آواز ہے کہ انہیںبے گھر ہونے سے بچایا جائے،گزشتہ تین ہفتوں سے اسلام آباد کی کرسچن کچی آبادیوں کو سی ڈی اے کی طرف سے خالی کروانے کے اعلانات نے تقریبا ً چارہزار خاندانوں اور بیس ہزار سے زائد رہائشیوں کو ذہنی اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے، اتنی بڑی تعداد میں شہریوں کو بے گھر کرنا کسی بڑے سماجی المیے کو جنم لے سکتا ہے.
جس کے حوالے سے حکام سوچ رہے ہیں نہ سی ڈی اے، حکام کو معلوم ہونا چاہئے کہ یہ تمام شہر ی غیر اہم نہیں بلکہ اسلام آباد میں بہت اہم خدمات فراہم کررہے ہیں ، جس میں گھریلو خدمات اور شہر کے صفائی ستھرائی کا کام شامل ہے ،یکدم اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کا بے گھر اوربے روزگار ہونا کسی بھی بڑے سماجی اور معاشی المیے کو جنم دے سکتا ہےکیونکہ متاثرین کا فوری طور پر رہائش کا بندوبست کرنا اور بعدا زاں ملازمت پر پہنچنا مشکل ہو جائیگا جے سالک کا مزید کہنا تھا کہ ریاست ماں ہوتی ہےلہذاٰ وہ ماں جیسا رحم بھی دکھائے ، اعلیٰ حکامکی بے حسی سے یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ پاکستانی شہریوں اور بالخصوص اقلیتیوں کا کوئی ماں باپ نہیں،
تنہامارچ ایک عاجزانہ اپیل اور اس بات کی علامت ہے کہ ہم دفعہ 144 کا احترام کرتے ہیں کہ مقامی حکومت کی حکم عدولی نہ ہو اور معاملہ اس نہج تک نہ پہنچے جہاں مجبوراً لوگوں کو سڑکوں پر آنا پڑے اور اس قانون کی نافرمانی ہو ، انکا مزید کہنا تھا کہ دنیا بھراور اسلام آباد میں بے شمار کچی آبادیاں موجود ہیں جنہیں وقت کے ساتھ حکومتوں نے نہ صرف تسلیم کیا بلکہ وہاں کے مکینوں کو بنیادی سہولیات، رہائشی تحفظ اور قانونی حقوق بھی فراہم کیے۔ اسی تناظر میں ہماری پُرزور اپیل ہے کہ کچی آبادیوں کو مسمار کرنے کے حالیہ اعلانات پر ہمدردانہ اور انسان دوست بنیادوں پر نظرِ ثانی کی جائے اور باقی ماندہ کچی آبادیوں کو بھی مالکانہ حقوق دیئے جائیں تاکہ ہزاروں غریب اور محنت کش خاندانوں کو بے گھر ہونے سے بچایا جا سکے۔