واشنگٹن ڈی سی کی ایک وفاقی جج نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے اس اقدام کو روک دیا ہے جس کا مقصد امریکا کے اندر سے گرفتار مہاجرین کی فوری ملک بدری کو تیز کرنا تھا۔ جج نے اسے آئینی حقِ سماعت (Due Process) کی خلاف ورزی قرار دیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ان مہاجرین کو فوری طور پر نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو ملک میں کافی عرصے سے مقیم ہیں، لہٰذا ان کے پاس ملک میں رہنے کا قانونی مفاد موجود ہے اور انہیں امریکی آئین کی پانچویں ترمیم کے تحت مکمل قانونی کارروائی کا حق دیا جانا چاہیے۔
سی این این کے مطابق، یہ پالیسی صدر ٹرمپ کی دوسری مدت صدارت کے آغاز میں نافذ کی گئی تھی، جس میں ہوم لینڈ سیکیورٹی کی سابقہ پالیسی کو وسعت دے کر ایسے افراد کو بھی شامل کیا گیا تھا جو سرحد سے 100 میل کے فاصلے پر اور دو ہفتے سے کم قیام کے باوجود تیز تر ملک بدری کے اہل تھے۔
جج جیا کاوب نے کہا کہ حکومت نے دلیل دی کہ غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے افراد کو آئینی حقِ سماعت حاصل نہیں، لیکن یہ مؤقف آئینی اصولوں کے منافی ہے اور اس سے نہ صرف غیر ملکی بلکہ شہری بھی خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔
مہاجرین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم “میک دی روڈ نیویارک” نے عدالت میں کہا کہ یہ پالیسی استعمال کر کے ایسے افراد کو گرفتار اور ملک بدر کیا جا رہا ہے جو امیگریشن عدالتوں میں قانونی کارروائی کے لیے پیش ہو رہے ہیں۔
حکومت نے مؤقف اپنایا کہ اس پالیسی کا مقصد امیگریشن مقدمات کی تعداد کم کرنا اور نظام کو مؤثر بنانا ہے، تاہم عدالت نے قرار دیا کہ اس پالیسی کے تحت اندرونِ ملک رہائش پذیر ہزاروں افراد کو نکالنے سے قبل مکمل قانونی عمل کو یقینی بنانا ہوگا۔
اس ماہ کے آغاز میں جج کاوب نے ٹرمپ انتظامیہ کی ایک اور پالیسی کو بھی روک دیا تھا جو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امریکا آنے والے افراد کی ملک بدری تیز کرنے کے لیے بنائی گئی تھی۔