اسلام آباد/بخارسٹ — عالمی سپلائی چین کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے، رومانیہ اور پاکستان نے 31 مارچ 2026 کو بندرگاہوں کے درمیان تعاون کی ایک تاریخی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے۔ یہ آن لائن تقریب نیشنل کمپنی “میرین پورٹس ایڈمنسٹریشن” کونسٹانٹا (Constanța) اور کراچی پورٹ ٹرسٹ (KPT) کے درمیان منعقد ہوئی، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور بحری شراکت داری کو نئی بلندیوں پر لے جانا ہے۔
اس اہم معاہدے پر کونسٹانٹا پورٹ کے جنرل منیجر مسٹر میہائی تیوڈورسکو اور کراچی پورٹ ٹرسٹ کے چیئرمین ایڈمرل شاہد احمد (ریٹائرڈ) نے دستخط کیے۔ تقریب میں دونوں ممالک کی وزارت خارجہ اور ٹرانسپورٹ کے حکام سمیت سفیر ڈان اسٹونیسکو اور الیاس محمود نظامی نے بھی شرکت کی۔
عالمی بحری رابطوں میں بہتری
اس معاہدے کا بنیادی مقصد کراچی بندرگاہ اور بحیرہ اسود پر واقع کونسٹانٹا بندرگاہ کے درمیان بحری رابطوں کو بہتر بنانا ہے۔ اس تعاون سے جنوبی ایشیا اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی مال کی ترسیل زیادہ تیز اور موثر ہو جائے گی۔
پاکستان کے لیے یہ معاہدہ “بلیو اکانومی” اور بحری شعبے کی ترقی کے لیے انتہائی اہم ہے، جبکہ رومانیہ اس کے ذریعے یورپی یونین کے لیے ایک اہم لاجسٹک گیٹ وے کے طور پر اپنا کردار مزید مستحکم کرے گا۔ کونسٹانٹا بندرگاہ سے تجارتی مال دریائے ڈینیوب کے ذریعے ہنگری، آسٹریا اور جرمنی سے ہوتا ہوا ہالینڈ کی روٹرڈیم بندرگاہ تک پہنچ سکتا ہے۔
دو طرفہ تجارت اور اقتصادی فوائد
دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے رابطوں سے تجارت کے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔ اس معاہدے کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
رومانیہ کی برآمدات: صنعتی سامان، مشینری، کیمیکلز اور زرعی مصنوعات کی پاکستان اور علاقائی مارکیٹوں تک آسان رسائی۔
پاکستانی برآمدات: ٹیکسٹائل اور دیگر مصنوعات کی یورپی منڈیوں میں GSP+ اسکیم کے تحت موثر رسائی۔
مشترکہ ورکنگ گروپ: بندرگاہوں کے انتظام، آپریشنز اور ماہرین کے تبادلے کے لیے ایک عملی فریم ورک کا قیام۔
پائیدار اقتصادی مستقبل کا وژن
رومانیہ کے سفیر ڈان اسٹونیسکو نے اس موقع پر کہا کہ یہ شراکت داری علاقائی یکجہتی اور مشترکہ خوشحالی کے لیے ایک عملی ذریعہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ عالمی انفراسٹرکچر پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر، پاکستان اور رومانیہ کا یہ تعاون سپلائی چین کو متنوع بنانے کے لیے ایک دور اندیش اقدام ہے۔
چونکہ یورپی یونین کی 75 فیصد سے زائد بیرونی تجارت سمندر کے ذریعے ہوتی ہے، اس لیے یہ معاہدہ نہ صرف تجارت بلکہ اقتصادی استحکام اور جدت طرازی کے لیے بھی کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔