عالمی دباؤ رنگ لے آیا: غیر ملکی صحافیوں پر حملے کے بعد پوری اسرائیلی فوجی یونٹ فارغ

اسرائیلی آرمی چیف جنرل ایال ضمیر نے مقبوضہ مغربی کنارے میں صحافیوں (Journalists) کی ٹیم پر حملے اور بدسلوکی کے واقعے پر پوری فوجی بٹالین کو معطل کرنے کا غیر معمولی حکم جاری کر دیا ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب صحافی ایک فلسطینی گاؤں میں اسرائیلی آباد کاروں کی جانب سے زمین پر قبضے کی کوریج کر رہے تھے۔

واقعے کی سنگینی اور صحافیوں پر تشدد
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے کوریج روکنے کے لیے پیشہ ورانہ حدود سے تجاوز کیا اور صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ واقعے کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

جسمانی تشدد: ایک فوٹو جرنلسٹ کا گلا دبا کر اسے زمین پر گرایا گیا، جس سے ان کا کیمرہ بھی ٹوٹ گیا۔

غیر قانونی حراست: متاثرہ ٹیم کو دو گھنٹے تک غیر قانونی طور پر قید میں رکھا گیا اور ان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی۔

پیشہ ورانہ رکاوٹ: یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب صحافی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کر رہے تھے۔

اسرائیلی فوج کا غیر معمولی تادیبی قدم
عام طور پر اسرائیلی فوج (IDF) انفرادی غلطیوں پر کارروائی کرتی ہے، لیکن پوری بٹالین کی معطلی ایک غیر معمولی اقدام (Extraordinary Step) قرار دیا جا رہا ہے۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اعتراف کیا ہے کہ فوجیوں کا یہ رویہ عسکری ضابطہ اخلاق اور پیشہ ورانہ معیار کے سراسر خلاف تھا۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ چونکہ متاثرہ ٹیم کا تعلق ایک بڑے عالمی میڈیا ہاؤس سے تھا، اس لیے عالمی دباؤ اور سفارتی اثر و رسوخ کے باعث فوج کو یہ سخت فیصلہ کرنا پڑا۔

عالمی تشویش اور مستقبل کے اثرات
اس واقعے کے بعد بین الاقوامی سطح پر صحافیوں کے تحفظ اور میڈیا کی آزادی کے حوالے سے سخت تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ آرمی چیف نے واقعے کی مکمل تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ فوج کے اندر پرتشدد رویوں کی کوئی گنجائش نہیں ہے، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کا ردعمل صرف بین الاقوامی میڈیا کے معاملے میں ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔

About The Author

اپنا تبصرہ لکھیں