پاکستان، سعودیہ، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں ہر ملک کا مخصوص موقف

اسلام آباد:امریکہ اور ایران کے مابین ثالثی کے لیے اتوار کے روز پاکستان ک میزبانی میں سعودیہ, ترکیہ اور مصر کے وزائے خارجہ کا اجلاس منعقد ہوا.
عالمی زرائع ابلاغ کے مطابق اجلاس میں چار نکات پر بات چیت کرنا طے پایا گیا تھا. پہلے نمبر پر امریکہ و اسرائیل بمقابلہ ایران جنگ اور کشیدگی کم کرنے کی راہیں ہموار کرنا. دوسرا امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کروانا.شریک ممالک بطور ثالث کردار ادا کر رہے ہیں.شریک ممالک کی کوشش ہے کہ امریکہ اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لایا جائے.

تیسرا مشترک سفارتی حکمت عملی بنانا بھی اس اجلاس کا ایجنڈے پر شامل ہے.چاروں ممالک یہ طے کر رہے ہیں کہ آگے کیا سفارتی قدم اٹھایا جائے.اور یکساں سفارتی موقف کے زریعے جنگ کو کیسے روکا جائے خطے کے امن اور استحکام کو کیسے بچایا جائے

چوتھا یہ کہ توانائی اور تجارت کے تحفظ پر بات چیت کی جائے. اس جنگ سے تیل، گیس اور عالمی تجارت متاثر ہو رہی ہے.اس لیے اہم سمندری راستوں اور سپلائی کو محفوظ رکھنے پر بھی بات بھی ہوئی.

چار ملکی اجلاس میں شامل ممالک پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر سب نے مجموعی طور پر امن، سفارت کاری اور کشیدگی کم کرنے پر زور دیا، لیکن ہر ملک کا اپنا ایک خاص مؤقف بھی سامنے آیا
پاکستان کے وزیر خارجہ نے کہا کہ مذاکرات ہی واحد حل ہیں. اس کے لیے انہوں نے خود کو ثالث کے طور پر پیش کیا.علاقائی استحکام کے لیے فعال کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی.

عالمی زرائع ابلاغ کے مطابق سعودی عرب
سعودی عرب نے زور دیا کہ فوری جنگ بندی ہونی چاہیے.خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سیاسی حل کی حمایت کریں گے. انسانی بحران پر تشویشبھی ظاہر کی. جبکہ ترکیہ نے مظلوم فریق کی حمایت اور انصاف پر زور دیا.کہا کہ عالمی برادری کو فعال کردار ادا کرنا چاہیے.اور مصر نے خاص طور پر علاقائی استحکام اور سرحدی سلامتی پر زور دیا.مذاکرات اور سفارتی حل کی حمایت کی.

مجموعی طور پر چاروں ممالک اس بات پر متفق تھے کہ کشیدگی کم ہونی چاہیے.جنگ بندی ضروری ہے.مسئلہ صرف بات چیت اور سفارت کاری سے حل ہوگا.

About The Author

اپنا تبصرہ لکھیں