اوساکا — جاپان میں پاکستان کے سفیر نے اوساکا میں پاکستانی کمیونٹی کے زیر اہتمام منعقدہ ایک پروقار ثقافتی میلے میں شرکت کی۔ اس تقریب کا مقصد پاکستان کے بھرپور ثقافتی ورثے کو اجاگر کرنا اور پاکستان اور جاپان کے درمیان عوامی سطح پر دیرینہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانا تھا۔
اس میلے نے دونوں ممالک کے روایتی کھیلوں اور فنون لطیفہ کے اشتراک سے ایک منفرد سماں باندھ دیا۔ سفیر پاکستان نے جاپان میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی ان کوششوں کو سراہا جو دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان باہمی مفاہمت اور ثقافتی تبادلے کو فروغ دے رہی ہیں۔
ملاکھڑا اور سومو کشتی: ایک منفرد تزویراتی امتزاج
اس فیسٹیول کی سب سے بڑی کشش وہ نمائشی مقابلہ تھا جس میں جاپان کے مشہور سومو پہلوانوں اور پاکستان کے روایتی ملاکھڑا پہلوانوں نے حصہ لیا۔ ملاکھڑا، جو کہ سندھ کا قدیم اور روایتی کھیل ہے، اس کے داؤ پیچ دیکھ کر جاپانی تماشائی دنگ رہ گئے۔
یہ مقابلہ دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ ورثے اور روایتی کھیلوں کے تحفظ کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس موقع پر مقررین نے کہا کہ کھیل کے میدان سے نکلا ہوا یہ پیغام دونوں قوموں کے درمیان نظم و ضبط اور جسمانی محنت کے مشترکہ اقدار کی عکاسی کرتا ہے۔
قوالی اور ساکائی گروپ کی پرفارمنس
ثقافتی رنگوں سے بھرپور اس تقریب میں موسیقی اور رقص کے ذریعے بھی حاضرین کے دل جیتے گئے:
ساکائی ثقافتی گروپ: مقامی جاپانی فنکاروں نے اپنے روایتی رقص پیش کر کے تقریب کو چار چاند لگا دیے۔
جمشید صابری قوال: عالمی شہرت یافتہ جمشید صابری قوال اور ان کے ساتھیوں نے اپنی روح پرور قوالی کے ذریعے پاکستان کی صوفیانہ موسیقی کا جادو جگایا، جسے حاضرین نے بے حد سراہا۔
عوامی سفارت کاری اور کمیونٹی کا کردار
اپنے خطاب میں سفیر پاکستان نے کمیونٹی کے جذبے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ملک کے اصل سفیر ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اس طرح کی سرگرمیاں جاپانی معاشرے میں پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ “اوساکا کا یہ میلہ محض ایک تقریب نہیں بلکہ پاک جاپان دوستی کی ایک زندہ مثال ہے، جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ ثابت ہوگی۔”