اسلام آباد: پاکستان میں ماحولیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی ہم آہنگی کی وفاقی سیکریٹری عائشہ حمیرہ مورانی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ملک کو خشک سالی سے نمٹنے کے لیے ردِعمل پر مبنی حکمتِ عملی کے بجائے پیشگی اور خطرات پر مبنی مؤثر نظام کی طرف فوری طور پر منتقل ہونا ہوگا، کیونکہ ماحولیاتی تبدیلی کے باعث خشک سالی کی شدت اور تکرار میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ایک مقامی ہوٹل میں قومی خشک سالی ایکشن پلان کے حوالے سے منعقدہ مشاورتی ورکشاپ سے بطور کلیدی مقرر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خشک سالی اب کوئی دور یا وقتی خطرہ نہیں رہی بلکہ درجہ حرارت میں اضافے، پانی کی قلت اور موسمی تغیر کے باعث ایک مستقل چیلنج بن چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پہلے ہی ان ممالک میں شامل ہے جہاں پانی کا خطرہ زیادہ ہے، جبکہ خشک سالی براہِ راست زراعت، آبی وسائل، غذائی تحفظ، ماحولیاتی نظام اور لوگوں کے روزگار کو متاثر کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں ہماری توجہ زیادہ تر نقصانات کے بعد امدادی اقدامات پر رہی، جبکہ اب پیشگی تیاری ناگزیر ہے۔
عائشہ حمیرہ مورانی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اعداد و شمار کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے کے لیے مربوط ادارہ جاتی اور پالیسی فریم ورک کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی ادارہ برائے آبی نظم و نسق، محکمہ موسمیات پاکستان اور دیگر شراکت داروں کی جانب سے پاکستان خشک سالی مینجمنٹ سسٹم کی تیاری کو سراہا، جو حقیقی وقت میں نگرانی اور پیشگی انتباہ کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایک اہم پیش رفت ہے، تاہم صرف ڈیٹا کافی نہیں، بلکہ ایسے نظام کی ضرورت ہے جو بروقت اور شواہد پر مبنی فیصلوں کو یقینی بناتے ہوئے زمینی سطح پر عملدرآمد ممکن بنائے۔
وفاقی سیکریٹری نے بتایا کہ وزارتِ ماحولیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی نے اقوام متحدہ کے کنونشن برائے انسدادِ صحرائی پھیلاؤ کے تعاون سے اور وسیع مشاورت کے بعد قومی خشک سالی ایکشن پلان تیار کر لیا ہے۔ اس منصوبے میں منصوبہ بندی اور وسائل کی فراہمی، طرزِ حکمرانی اور پالیسی، ابتدائی انتباہی نظام، مقامی سطح پر تدارکی اقدامات اور صلاحیت سازی جیسے اہم ستون شامل ہیں۔
ورکشاپ میں وفاقی و صوبائی حکومتوں، ترقیاتی شراکت داروں اور مختلف اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی، جن میں بین الاقوامی ادارہ برائے آبی نظم و نسق، محکمہ موسمیات پاکستان، ادارہ خوراک و زراعت اور برطانیہ کا محکمہ برائے خارجہ و ترقی شامل ہیں۔ اس کا مقصد منصوبے کے مؤثر نفاذ کے لیے ایک عملی فریم ورک کو حتمی شکل دینا تھا۔
شرکاء نے ترجیحی شعبوں کی نشاندہی، ادارہ جاتی ذمہ داریوں کے تعین اور قلیل، درمیانی اور طویل المدتی اقدامات کے لیے لائحہ عمل کی تیاری پر غور کیا۔
اس موقع پر عائشہ حمیرہ مورانی نے کہا کہ خشک سالی جیسے کثیرالجہتی مسئلے سے نمٹنے کے لیے وفاقی و صوبائی حکومتوں، تکنیکی اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں کے درمیان مضبوط ہم آہنگی ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے حکومتی اور سماجی سطح پر مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وزارت تمام متعلقہ اداروں، بشمول قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، محکمہ موسمیات اور صوبائی محکموں کے ساتھ مل کر اس عمل کو آگے بڑھائے گی، اور شرکاء پر زور دیا کہ وہ ایک قابلِ عمل اور قومی ملکیت کے حامل منصوبے کی تیاری کے لیے اپنی تکنیکی آراء پیش کریں۔
ورکشاپ کے متوقع نتائج میں ایک ایسا عملی فریم ورک شامل ہے جس میں ادارہ جاتی کردار اور رابطہ کاری کے طریقہ کار واضح ہوں گے، خشک سالی کے خطرات میں کمی کے لیے ترجیحی شعبوں کی نشاندہی کی جائے گی، جبکہ قومی خشک سالی مینجمنٹ کمیٹی اور تکنیکی مشاورتی کمیٹی کے قیام کی تجاویز بھی پیش کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ عملدرآمد کے لیے ٹائم لائن اور رپورٹنگ نظام پر مشتمل ایک جامع روڈ میپ بھی تیار کیا جائے گا۔