شاہی قلعہ کی اصل شکل میں واپسی:اولڈ سٹی سے بجلی کی تاریں ہٹانے اور مال روڈ پر احتجاج پر پابندی کا فیصلہ

لاہور — پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی زیرِ صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں لاہور کی تاریخی حیثیت کو بحال کرنے کے لیے “نئے دور کا پرانا لاہور” نامی بڑے منصوبے کی منظوری دی گئی ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد شاہی قلعہ سمیت اندرون شہر کی قدیم عمارتوں کو ان کی اصل حالت میں واپس لانا اور سیاحت کو فروغ دینا ہے۔

شاہی قلعہ اور تاریخی یادگاروں کی بحالی
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ 40 ایکڑ پر محیط شاہی قلعہ کے تمام حصوں کو مکمل طور پر قدیم حالت میں بحال کیا جائے گا۔ اس منصوبے کے تحت قلعہ کے اندر موجود 26 اہم یادگاروں کی مرمت کی جائے گی۔ تاریخی عمارتوں کی دیکھ بھال کے لیے ٹورازم ڈیپارٹمنٹ میں ایک مخصوص “ہیریٹیج ونگ” بنانے کی تجویز بھی دی گئی ہے تاکہ ان اثاثوں کی مستقل حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔

شہری ڈھانچے میں انقلابی تبدیلیاں
شہر کی خوبصورتی اور نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے چند بڑے فیصلے کیے گئے ہیں:

مال روڈ پر پابندی: مال روڈ کی تاریخی اہمیت کے پیشِ نظر یہاں ہر قسم کے احتجاجی جلسوں اور جلوسوں پر اصولی طور پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

والڈ سٹی کی خوبصورتی: پورے والڈ سٹی (اندرون لاہور) سے بجلی کی لٹکتی تاروں اور دیگر بدہیت کیبلز کو فوری طور پر ہٹانے کا حکم دیا گیا ہے۔

مقبرہ جہانگیر تک رسائی: سیاحوں کی سہولت کے لیے مقبرہ جہانگیر کو براہِ راست مین روڈ سے منسلک کرنے کے لیے ایک نئے پل کی منظوری دی گئی ہے۔

ثقافتی مراکز کی تجدیدِ نو
اس منصوبے میں صرف قلعے ہی نہیں بلکہ عوامی مراکز کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ پاک ٹی ہاؤس کی تاریخی حیثیت کو بحال کرنے کے لیے ایک نیا اور دلکش بیرونی ڈیزائن منظور کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، کھڑک سنگھ حویلی اور پرانے سرونٹ کوارٹرز کو بحال کر کے انہیں ہیریٹیج ہوٹلز میں تبدیل کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے تاکہ غیر ملکی سیاحوں کو لاہور کے اصل ثقافتی رنگ سے روشناس کرایا جا سکے۔

About The Author

اپنا تبصرہ لکھیں