لندن: لندن کی سنیئرز بروک کراؤن کورٹ نے جمعہ کے روز ایک 22 سالہ روسی شہری، ماتوی رومیانسیف کو ایک خاتون پر وحشیانہ تشدد کے جرم میں چار سال قید کی سزا سنا دی ہے۔ اس ہائی پروفائل کیس میں امریکی صدر کے 19 سالہ بیٹے، بیرون ٹرمپ، ایک اہم گواہ کے طور پر سامنے آئے، جنہوں نے 18 جنوری 2025 کو لائیو ویڈیو کال کے دوران اس حملے کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔
بیرون ٹرمپ کی ہنگامی کال اور مداخلت
عدالتی کارروائی کے دوران بیرون ٹرمپ کی برطانوی پولیس کو کی گئی کال کا ٹرانسکرپٹ پیش کیا گیا۔ ٹرمپ نے امریکہ سے فون کرتے ہوئے بتایا، “میں امریکہ سے کال کر رہا ہوں، مجھے ابھی ایک لڑکی کی کال آئی ہے… اسے پیٹا جا رہا ہے۔” انہوں نے پولیس کو بتایا کہ یہ واقعہ چند منٹ پہلے پیش آیا اور انہوں نے فوری طور پر مدد کے لیے رابطہ کیا۔
حسد اور مجرمانہ اقدامات
روسی شہری رومیانسیف نے عدالت میں اعتراف کیا کہ وہ متاثرہ خاتون کی بیرون ٹرمپ کے ساتھ سوشل میڈیا پر دوستی کی وجہ سے “حسد” کا شکار تھا۔ ملزم کو نہ صرف تشدد (ABH) بلکہ انصاف کے راستے میں رکاوٹ ڈالنے کا بھی مجرم قرار دیا گیا، کیونکہ اس نے جیل سے خاتون کو خط لکھ کر الزامات واپس لینے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔
عدالت کا فیصلہ اور اہم حقائق
اگرچہ رومیانسیف کو ریپ اور گلا گھونٹنے کے دیگر الزامات سے بری کر دیا گیا، لیکن عدالت نے تشدد اور دھمکانے کے جرم میں اسے سخت سزا سنائی۔ متاثرہ خاتون نے جج کو بتایا کہ اگر بیرون ٹرمپ بروقت پولیس کو اطلاع نہ دیتے، تو حملہ آور انہیں جان سے مار سکتا تھا۔
مجرم کا نام: ماتوی رومیانسیف (عمر 22 سال)
سزا: 4 سال قید بامشقت
اہم گواہ: بیرون ٹرمپ (امریکی صدر کے بیٹے)
وجہ تنازعہ: سوشل میڈیا پر دوستی اور حسد