کوالالمپور : ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے اپنے پاکستانی ہم منصب شہباز شریف کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کے دوران مشرق وسطیٰ کے تنازعے میں پاکستان کے کلیدی مصالحتی کردار کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے اور سفارتی کوششوں کے ذریعے استحکام لانے کی ضرورت پر زور دیا۔
اس اہم گفتگو کے دوران، ملائیشیا نے مشرق وسطیٰ (مغربی ایشیا) کی تازہ ترین صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔ یہ رابطہ عید الفطر کے پرمسرت موقع پر ہوا، جو مسلم امہ کے درمیان امن اور یکجہتی کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
علاقائی استحکام کے لیے ملائیشیا کا موقف
وزیراعظم انور ابراہیم نے واضح کیا کہ عالمی تنازعات کے حوالے سے ملائیشیا کا موقف دو ٹوک ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خونریزی روکنے اور علاقائی استحکام کی بحالی کے لیے کی جانے والی ہر کوشش کی مکمل حمایت کی جانی چاہیے۔
انور ابراہیم نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں کہا، “ملائیشیا کا پختہ موقف ہے کہ خونریزی کو روکنے اور علاقائی استحکام کی بحالی کے لیے کسی بھی اقدام کی مکمل حمایت کی جانی چاہیے۔”
دوطرفہ تعلقات اور “ملائیشیا مدنی” کا وژن
جیو پولیٹیکل صورتحال کے علاوہ، دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کو عید کی مبارکباد دی اور دونوں ممالک کے عوام کی خوشحالی اور سلامتی کے لیے دعائیں کیں۔ یہ گفتگو ملائیشیا اور پاکستان کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی کڑی ہے۔
گفتگو کے اہم نکات:
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی حکمت عملی۔
پاکستان کا بطور “سفارتی پل” مختلف فریقین کے درمیان کردار۔
ملائیشیا مدنی (Malaysia MADANI) فریم ورک کے تحت بین الاقوامی یکجہتی کا فروغ۔
یہ مکالمہ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ ملائیشیا اور پاکستان جیسے ممالک اپنی غیر جانبدارانہ حیثیت کو انسانی ہمدردی اور دیرپا امن کے لیے استعمال کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔