اسلام آباد: پاکستان میں ایرانی سفارتخانے نے جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے ہوشیار رہنے کا مشورہ دیا ہے، دفتری ذرائع سے رابطہ کرنے پر زور اسلام آباد میں ایرانی سفارت خانے نے سوشل میڈیا پر تیزی سے گردش کرنے والی گمراہ کن معلومات اور “منفی بیانیہ” کے خلاف ایک ہنگامی عوامی الرٹ جاری کیا ہے۔ اپنے آفیشل ایکس (ٹویٹر) ہینڈل سے جاری کردہ ایک بیان میں، سفارت خانے نے واضح کیا ہے کہ کچھ مخصوص اکاؤنٹس ایسی خبریں پھیلا رہے ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
یہ انتباہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے کی صورتحال انتہائی حساس ہے اور پاکستان تہران اور واشنگٹن کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ ایرانی مشن نے عوام اور میڈیا پر زور دیا ہے کہ وہ صرف سرکاری، تصدیق شدہ اور معتبر ذرائع پر ہی بھروسہ کریں۔
ڈیجیٹل پروپیگنڈے کے خلاف کارروائی
سفارت خانے نے خصوصی طور پر @innewx اور @globalreportnow نامی ایکس اکاؤنٹس کی نشاندہی کی ہے، اور ان پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایسی معلومات پھیلا رہے ہیں جو عوامی تاثر کو خراب کرنے کی دانستہ کوشش ہے۔ سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے “جعلی” اکاؤنٹس اکثر پاک-ایران دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
سفارت خانے کے مطابق، گمراہ کن خبروں کے پھیلاؤ کا مقصد درج ذیل معاملات پر ابہام پیدا کرنا ہو سکتا ہے:
اسلام آباد کے ذریعے بھیجے گئے 15 نکاتی امریکی امن منصوبے کی تفصیلات۔
ایرانی قیادت اور مستقبل کی پالیسیوں کے حوالے سے غیر تصدیق شدہ دعوے۔
علاقائی سیکیورٹی اور آبنائے ہرمز سے متعلق من گھڑت خبریں۔
معتبر معلومات کی اہمیت
سفارت خانے کے بیان میں کہا گیا ہے کہ “ان اکاؤنٹس سے شیئر کی جانے والی خبریں حقیقت کی عکاسی نہیں کرتیں۔” ایرانی مشن نے مزید کہا کہ عوام کو چاہیے کہ وہ کسی بھی غیر تصدیق شدہ خبر کو آگے بڑھانے سے گریز کریں تاکہ بیک چینل ڈپلومیسی اور امن کی کوششوں کو نقصان نہ پہنچے۔
ایرانی سفارت خانہ اس وقت پاکستانی حکام کے ساتھ مل کر ڈیجیٹل میڈیا پر نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ اس نازک دور میں غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔