اسلام آباد: ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ جدید ڈرونز ایرانی فوج کی مختلف شاخوں کے حوالے کر دیے گئے ہیں تاکہ انہیں آپریشنل اور دفاعی ضروریات کے مطابق استعمال کیا جا سکے۔ عسکری حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام خطے میں بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خدشات اور عالمی سیاسی تناؤ کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

اس موقع پر ایرانی فوج کے سربراہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ممکنہ جارحیت کی صورت میں فوری اور بھرپور ردعمل دیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی دفاعی تیاریاں جارحانہ عزائم کے لیے نہیں بلکہ ملکی خودمختاری، علاقائی استحکام اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ اور عالمی سلامتی
مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ جغرافیائی و سیاسی کشیدگی، بین الاقوامی پابندیوں اور عالمی طاقتوں کے بدلتے اتحاد نے خطے کو ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ بین الاقوامی برادری، اقوامِ متحدہ اور عالمی سفارتی حلقے خطے میں فوجی صلاحیتوں میں اضافے کو گہری نظر سے دیکھ رہے ہیں، کیونکہ اس کے اثرات عالمی سیاست اور علاقائی توازن پر پڑ سکتے ہیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق نئی ڈرون کھیپ کی شمولیت سے ایران کی عسکری حکمتِ عملی مزید مضبوط ہو گئی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ پیش رفت عالمی سفارتکاری، علاقائی سلامتی اور بین الاقوامی تعلقات پر اثر انداز ہو سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔