ایران کی آبنائے ہرمز میں بحری مشقیں

ویب ڈیسک: امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق، وہ بین الاقوامی پانیوں میں ایران کے پیشہ ورانہ طور پر سرگرم رہنے کے حق کو تسلیم کرتی ہے، تاہم امریکی افواج، علاقائی شراکت داروں یا تجارتی جہازوں کے قریب کسی بھی قسم کا غیر محفوظ اور غیر پیشہ ورانہ عسکری رویہ تصادم اور عدم استحکام کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔

سینٹ کام کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران نے اعلان کیا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں دو روزہ لائیو فائر بحری مشقیں منعقد کر رہی ہے، جو اتوار سے شروع ہوں گی۔

امریکی فوج نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کو چاہیے کہ وہ بحری مشقیں اس انداز میں کرے جو محفوظ، پیشہ ورانہ اور بین الاقوامی سمندری ٹریفک کے لیے غیر خطرناک ہوں۔

بیان کے مطابق، آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی سمندری گزرگاہ اور عالمی تجارت کی اہم راہداری ہے، جہاں سے روزانہ تقریباً 100 تجارتی جہاز گزرتے ہیں، جن میں تیل اور توانائی کی ترسیل کرنے والے بحری جہاز بھی شامل ہیں

سینٹ کام کے بیان میں کہا گیا:

“ہم پاسدارانِ انقلاب کے کسی بھی غیر محفوظ اقدامات کو برداشت نہیں کریں گے، جن میں امریکی فوجی جہازوں کے اوپر سے پرواز، مسلح یا کم بلندی پر طیاروں کی پرواز، یا امریکی بحری جہازوں کے قریب تیز رفتار کشتیوں کی نقل و حرکت شامل ہے، خاص طور پر ایسے حالات میں جب ان کے ارادے واضح نہ ہوں۔”

عالمی برادری اور پاکستان کا مؤقف

آبنائے ہرمز میں کشیدگی کا اثر صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں بلکہ یہ عالمی سیاست، عالمی معیشت اور توانائی کے عالمی بازار کو بھی متاثر کرتا ہے۔ پاکستان، جو اقوام متحدہ (UN)، اسلامی تعاون تنظیم (OIC) اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر سفارتی روابط اور عالمی تعاون کا حامی رہا ہے، خطے میں استحکام کے تسلسل کو اہم قرار دیتا ہے۔

About The Author

اپنا تبصرہ لکھیں