وائس چانسلر پیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی کا سینٹر برائے جدید زرعی و آبی ٹیکنالوجیز، ریسرچ فارم کونٹ کا دورہ

راولپنڈی: پیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قمرالزمان نے یونیورسٹی ریسرچ فارم کونٹ میں قائم سینٹر برائے جدید زرعی و آبی ٹیکنالوجیز کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے پائیدار، جدید اور ٹیکنالوجی پر مبنی کاشتکاری کے فروغ کے لیے جاری تحقیقی و ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا۔

دورے کے دوران وائس چانسلر کو مختلف اہم منصوبوں پر بریفنگ دی گئی جن میں مصنوعی نسل کشی کا منصوبہ، شہد کی مکھیوں کی ترقیاتی سرگرمیاں اور مختلف فصلوں و سبزیوں پر جاری تحقیقی تجربات شامل تھے۔ انہوں نے تحقیقی لیبارٹریز کا بھی معائنہ کیا، جہاں سائنسدان اور طلبہ فصلوں کی جینیاتی بہتری، مٹی کی صحت اور وسائل کے مؤثر استعمال پر مبنی جدید زرعی نظاموں پر تحقیق کر رہے ہیں۔

پاک۔چین تعاون کے تحت جدید زرعی تحقیق

پاک۔چائنا سینٹر برائے جدید زرعی ٹیکنالوجی کے فوکل پرسن ڈاکٹر طاہر اقبال نے وائس چانسلر کو مختلف منصوبوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ہائی ایفیشنسی آبپاشی نظام کے تحت مکینائزڈ گندم کی کاشت پر خصوصی کام جاری ہے، جس کا مقصد پریسیژن ایگریکلچر اور جدید آبپاشی ٹیکنالوجی کے ذریعے کم پانی والے علاقوں میں پیداوار اور آبی استعداد میں اضافہ کرنا ہے۔

کسان دوست تحقیق پر زور

یونیورسٹی ریسرچ فارم کے ڈائریکٹر ڈاکٹر غلام قادر نے وائس چانسلر کو محققین کی سرگرمیوں سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ فیکلٹی ممبران، پوسٹ گریجویٹ طلبہ اور شراکتی ادارے جدید زرعی طریقوں کو عملی بنیادوں پر متعارف کرانے اور کسانوں کی معاشی حالت بہتر بنانے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔

“تحقیق کا فائدہ براہِ راست کسان تک پہنچنا چاہیے”

پروفیسر ڈاکٹر قمرالزمان نے فیکلٹی اور محققین کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ تحقیق کا اصل مقصد کسانوں کو براہِ راست فائدہ پہنچانا اور ملکی زرعی معیشت کو مضبوط بنانا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ سائنسدان ایسے منصوبوں پر توجہ مرکوز رکھیں جو:

زرعی پیداوار میں اضافہ کریں

پانی اور دیگر وسائل کے مؤثر استعمال کو یقینی بنائیں

خوراک کے تحفظ اور کسانوں کی فلاح میں عملی کردار ادا کریں

ان کا کہنا تھا کہ “ہماری تحقیق کا سفر لیبارٹری سے کھیت تک ہونا چاہیے” تاکہ پاکستان کی زراعت عالمی سطح پر مسابقتی بن سکے۔

موسمیاتی تبدیلی اور غذائی چیلنجز سے نمٹنے کی تیاری

دورے کے اختتام پر وائس چانسلر نے محققین اور عملے سے تعارفی نشست میں گفتگو کی اور مشترکہ تحقیق، اختراعات اور جدت کے فروغ پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسی تحقیق وقت کی ضرورت ہے جو پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی، پانی کی کمی اور بڑھتی ہوئی غذائی ضروریات جیسے بڑے چیلنجز سے نمٹنے میں مدد دے سکے۔

About The Author

اپنا تبصرہ لکھیں