ماسکو میں 15 جنوری کو منعقدہ اس تقریب میں نئے تعینات سفیروں نے اسنادِ سفارت پیش کیں۔ اس موقع پر صدر پوتن نے کہا کہ آج کی متنوع اور باہم مربوط دنیا میں عالمی سلامتی کا براہِ راست انحصار ریاستوں کی اس صلاحیت پر ہے کہ وہ کس حد تک تعمیری انداز میں باہمی تعامل کر سکتی ہیں۔
روسی سفارتخانہ اسلام آباد کے ترجمان کے مطابق، انہوں نے مزید کہا کہ شفاف اور دیانت پر مبنی شراکت دارانہ تعلقات وہ سازگار ماحول فراہم کرتے ہیں جو مشترکہ عالمی چیلنجز، بشمول انسانی بحرانوں اور علاقائی کشیدگی، سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے۔
امن اور عالمی تعاون پر مؤقف
صدر پوتن کے مطابق، امن کوئی خودکار عمل نہیں بلکہ اسے روزانہ کی بنیاد پر استوار کرنا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امن کے قیام کے لیے مسلسل کوشش، ذمہ داری کا احساس اور شعوری فیصلے ناگزیر ہیں۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی بھی کی کہ موجودہ عالمی حالات میں یہ ذمہ داری مزید بڑھ گئی ہے کیونکہ بین الاقوامی ماحول بتدریج خراب ہو رہا ہے۔
عالمی سفارت کاری اور بین الاقوامی تنظیمیں
بین الاقوامی تعلقات میں تعاون کا تصور اقوام متحدہ (UN)، اسلامی تعاون تنظیم (OIC)، یورپی یونین (EU) اور دیگر عالمی فورمز کے ذریعے فروغ دیا جاتا ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی بھی سفارتی engagement، عالمی تعاون اور کثیرالجہتی فورمز میں فعال کردار پر زور دیتی ہے، جو عالمی امن اور استحکام کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق صدر پوتن کا یہ خطاب عالمی سیاست میں جاری مباحثے کی عکاسی کرتا ہے، جہاں بڑی طاقتیں سفارتی تعلقات، سلامتی اور بین الاقوامی تعاون کے مستقبل پر غور کر رہی ہیں۔ آنے والے دنوں میں عالمی برادری کی جانب سے ایسے بیانات اور عملی اقدامات عالمی استحکام کی سمت کا تعین کریں گے۔