آئی ایم ایف کی پاکستان کے لیے نئی شرائط: قرض پروگرام کا دوسرا جائزہ، کرپشن، ٹیکس اور گورننس سے متعلق اہم نکات

اسلام آباد: انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (IMF) نے پاکستان کے لیے قرض کی نئی قسط کی منظوری اور ترسیل کے ساتھ ہی اپنے پروگرام کا دوسرا جائزہ (Second Review) شائع کر دیا ہے۔
اس جائزے میں آئی ایم ایف کی سٹاف لیول رپورٹ کے تحت پاکستان کے لیے تقریباً گیارہ نئی شرائط تجویز کی گئی ہیں، جن کا براہِ راست تعلق کرپشن، حکومتی نظم و ضبط، ٹیکس پالیسی اور معاشی اصلاحات سے ہے۔

گورننس اور کرپشن ڈائیگناسٹک رپورٹ

آئی ایم ایف کی بیشتر نئی شرائط کا تعلق اس گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگناسٹک اسیسمنٹ رپورٹ سے ہے، جو رواں برس جاری کی گئی اور پاکستان کی وزارتِ خزانہ کی ویب سائٹ پر بھی شائع کی گئی تھی۔
اس رپورٹ میں مختلف سرکاری اداروں میں کرپشن، قانونی کمزوریوں اور انتظامی مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے۔

آئی ایم ایف کی شرط کے مطابق: رپورٹ کو عوامی طور پر شائع کیا جانا تھا

نشاندہی شدہ کمزوریوں کے خاتمے کے لیے ایک جامع ایکشن پلان تیار کیا جانا تھا

ایکشن پلان میں تاخیر

آئی ایم ایف نے اپنے دوسرے جائزے میں کہا ہے کہ پاکستانی حکومت نے رپورٹ تو مقررہ وقت کے بعد شائع کر دی ہے، تاہم: رپورٹ پر مبنی ایکشن پلان تاحال تیار نہیں کیا گیا . رپورٹ کی اشاعت میں تاخیر پر اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت ضروری قرار دی گئی
آئی ایم ایف کے مطابق اب یہ ایکشن پلان رواں سال کے اختتام سے پہلے تیار اور شائع کرنا ہوگا۔

نئی ٹیکس شرائط اور ممکنہ اثرات

نئی شرائط میں آئی ایم ایف نے کچھ نئے ٹیکس بڑھانے کی بھی تجویز دی ہے۔ان میں نمایاں طور پر:کھاد اور کیڑے مار ادویات پر وفاقی ایکسائز ڈیوٹی 5 فیصد تک بڑھانے کی تجویز

کرپشن کے خلاف اقدامات اور چینی و گندم کی مارکیٹ میں تجارتی پابندیوں کے خاتمے سے عوام کو فائدہ ہو سکتا ہے. تاہم ٹیکسوں میں اضافے سے کسانوں پر مالی بوجھ بڑھنے کا خدشہ ہے

اعلیٰ سرکاری ملازمین کے اثاثہ جات کی تفصیلات

آئی ایم ایف کی اہم شرط کے تحت: پاکستان کو دسمبر 2026 کے اختتام سے قبل اعلیٰ سطحی وفاقی سرکاری ملازمین کے اثاثہ جات کی تفصیلات سرکاری ویب سائٹ پر شائع کرنا ہوں گی

آئی ایم ایف کے مطابق:”اس اقدام کا مقصد آمدن اور اثاثوں میں مماثلت یا تضاد کی نشاندہی کرنا ہے۔”حکومت کا ارادہ ہے کہ اس شرط کو صوبائی سطح کے اعلیٰ ملازمین تک بھی توسیع دی جائے

بینکوں کو ان اثاثہ جات کی معلومات تک رسائی حاصل ہوگی
’کرپشن ہائی رسک‘ 10 ادارے اور نیب کا کردار
آئی ایم ایف کی رپورٹ میں: 10 سرکاری اداروں کو کرپشن کے حوالے سے ہائی رسک قرار دیا گیا ہے

آئی ایم ایف کے مطابق: وفاقی احتساب بیورو (نیب) کو مرکزی کردار دیا جائے گا . نیب اکتوبر 2026 سے پہلے ان اداروں کے لیے ایکشن پلان تیار کرے گا

صوبائی اینٹی کرپشن ادارے

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ: صوبائی اینٹی کرپشن اداروں کو مزید بااختیار بنایا جائے گا. انہیں فنانشل انٹیلیجنس اور مالیاتی معلومات تک رسائی دی جائے گی مالی بدعنوانی کی تحقیقات کے لیے ان کی صلاحیتوں میں اضافہ کیا جائے گا

ماہرین کے مطابق آئی ایم ایف کی نئی شرائط:

طویل مدت میں شفافیت اور نظم و ضبط بہتر کر سکتی ہیں .لیکن قلیل مدت میں ٹیکسوں اور مہنگائی کے ذریعے عام آدمی اور کسان متاثر ہو سکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ یہ شرائط پاکستان کی معیشت اور عوامی زندگی دونوں کے لیے نہایت اہم سمجھی جا رہی ہیں۔

About The Author

اپنا تبصرہ لکھیں