اسلام آباد— یونیس ایمری انسٹی ٹیوٹ ترک کلچرل سینٹر اسلام آباد نے آج نیشنل پریس کلب میں ورلڈ ترک کافی ڈے منایا۔ یہ تقریب ترکی کے سفارتخانے کی سرپرستی اور نیشنل پریس کلب کے تعاون سے منعقد ہوئی۔
تقریب میں معزز مہمانوں نے شرکت کی جن میں پاکستان میں ترکی کے سفیر ڈاکٹر عرفان نیزیروغلو، وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر رانا احسان اور پارلیمانی سیکریٹری برائے ثقافت و ورثہ فراح ناز اکبر شامل تھیں۔ نیشنل پریس کلب کے صدر نے مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے ترک کافی ڈے کی اہمیت اور پاکستان–ترکی دوستی کے فروغ میں اس کے کردار پر روشنی ڈالی۔

یونیس ایمری انسٹی ٹیوٹ پاکستان کے ترکی کوآرڈینیٹر پروفیسر ڈاکٹر حلیل ٹوکر (ستارہ امتیاز) نے خطاب میں کہا کہ ترک کافی محض ایک مشروب نہیں بلکہ صدیوں پرانی تہذیبی روایت ہے۔ انہوں نے معروف ترک کہاوت “ایک پیالی کافی چالیس سال یاد رکھی جاتی ہے” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ترک کافی دوستی اور باہمی احترام کی علامت ہے، جو پاکستان اور ترکی کے دیرینہ تعلقات کو مزید مضبوط کرتی ہے۔
معروف صحافی اور مصنف ڈاکٹر فاروق عادل نے ترک کافی سے اپنی پہلی ملاقات کا ذکر کیا اور ترک معاشرت میں کافی کپ کی فال بینی کی روایت کے بارے میں دلچسپ پہلو پیش کیے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فراح ناز اکبر نے اس دن کی اہمیت اجاگر کی اور اسے ہر سال منانے کی تجویز دی۔ رانا احسان نے ترک کافی کے منفرد ذائقے کی تعریف کی اور کہا کہ پاکستان اور ترکی کی صدیوں پرانی بھائی چارے کی روایت ثقافتی تبادلے کے ذریعے مزید مستحکم ہو رہی ہے۔ انہوں نے منتظمین کو کامیاب تقریب منعقد کرنے پر مبارکباد بھی دی۔

ترکی کے سفیر ڈاکٹر عرفان نیزیروغلو نے ترک کافی کی تاریخی اہمیت، سماجی کردار اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان ثقافتی رابطوں میں اس کے کردار پر روشنی ڈالی۔
آخر میں نیشنل پریس کلب کے سینئر نائب صدر احتشام الحق نے مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے تقریب کا اختتام کیا۔
تقریب کے بعد شرکاء نے ترکی فوٹو ایگزیبیشن کا دورہ کیا اور مستند ترک کافی کی خوشبو اور ذائقے سے لطف اندوز ہوئے۔