وزیرِ زراعت پنجاب کا بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی کا دورہ—ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن پلان میں یونیورسٹی کا کردار کلیدی قرار

راولپنڈی : وزیرِ زراعت پنجاب سید محمد عاشق حسین کرمانی نے سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہو کے ہمراہ پیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی کا دورہ کیا۔ یونیورسٹی پہنچنے پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قمرالزمان، رجسٹرار، ڈینز، ڈائریکٹرز اور فیکلٹی ممبران نے معزز مہمانوں کا پرتپاک استقبال کیا۔

وزیر اور سیکرٹری زراعت نے یونیورسٹی کے اہم تحقیقی و جدت پر مبنی مراکز کا معائنہ کیا، جن میں سینٹر فار پریسیژن ایگریکلچر، پاک چین ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ سینٹر برائے جدید زراعت و موثر آبی ٹیکنالوجیز، اور گرین اے آئی ہائیڈروپونک یونٹ شامل تھے۔ وزیرِ زراعت نے جدید زرعی ٹیکنالوجیز میں یونیورسٹی کی پیش رفت اور کاشتکاروں کی تربیت کے لیے کیے گئے اقدامات کی تعریف کی۔

اس موقع پر وزیرِ زراعت کی زیرصدارت ایک اہم اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں وائس چانسلر نے جاری منصوبوں، تکنیکی اقدامات اور جدید زرعی نظام کی تشکیل پر بریفنگ دی۔ وزیرِ زراعت نے یونیورسٹی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ بارانی زرعی یونیورسٹی پوٹھوہار میں وزیراعلیٰ پنجاب کے ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن پلان کے نفاذ میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔

سید عاشق حسین کرمانی نے کہا کہ جامعات تحقیق، جدت اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے بنیادی مراکز ہیں، جبکہ زرعی ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے اکیڈیمیا، صنعت اور حکومت کا اشتراک ناگزیر ہے۔ انہوں نے ہائیڈروپونک زراعت میں خصوصی دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ غذائی تحفظ اور پیداوار میں اضافے کے لیے اس ٹیکنالوجی کا فروغ انتہائی ضروری ہے، اور اسے مقامی سطح پر کاشتکاروں کے لیے قابلِ عمل بنانا ہوگا۔

سیکرٹری زراعت افتخار علی سہو نے بتایا کہ محکمہ زراعت اور زرعی جامعات کے مابین روابط مضبوط بنانے کے لیے نئی کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں، جو کاشتکاروں کے مسائل کی نشاندہی اور تحقیق پر مبنی حل فراہم کریں گی۔

وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قمرالزمان نے معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن پلان کی کامیابی میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتی رہے گی۔ انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی کے جاری میگا پراجیکٹس، ٹریننگ پروگرامز اور قومی و بین الاقوامی ورکشاپس کا مقصد کاشتکاروں کو جدید علم اور مہارت فراہم کرنا ہے۔ مزید برآں، فیکلٹی ماہرین کے متعدد پیٹنٹس رجسٹر ہو چکے ہیں اور کم خرچ مقامی ٹیکنالوجیز کی تیاری پر تحقیق جاری ہے تاکہ زرعی شعبے کی ترقی تیز تر کی جا سکے۔

About The Author

اپنا تبصرہ لکھیں