اسلام آباد (سی این این اردو) — مسلم لیگ (ق) اوورسیز یوکے کا ایک اعلیٰ سطحی وفد سینئر رہنما ڈاکٹر شوکت علی شیخ کی قیادت میں اسلام آباد پہنچ گیا ہے، جہاں وہ پارٹی قیادت، حکومتی نمائندوں اور مختلف سرکاری اداروں کے اعلیٰ حکام سے اہم ملاقاتیں کرے گا۔ اس دورے کا بنیادی مقصد پارٹی کی تنظیمی مضبوطی، اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل اور مسلم لیگ (ق) کی مستقبل کی سیاسی حکمتِ عملی کے حوالے سے مشاورت کو آگے بڑھانا ہے۔
ذرائع کے مطابق وفد میں ڈاکٹر شوکت علی شیخ، محمد شفیق اور دیگر اہم عہدیداران شامل ہیں، جو برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ایک جامع ایجنڈا اور مختلف تجاویز بھی اپنے ساتھ لائے ہیں۔
وفد کی جانب سے پارٹی قیادت کو اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل—خصوصاً قونصلر سروسز، کاروباری سہولتیں، پراپرٹی تنازعات اور سرمایہ کاری کے مواقع—سے متعلق سفارشات پیش کی جائیں گی۔
دورے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر شوکت علی شیخ کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ق) ہمیشہ بیرونِ ملک پاکستانیوں کی حقیقی آواز رہی ہے اور ان کے مسائل کے حل کے لیے ہر فورم پر مؤثر آواز بلند کرتی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چودھری سالک حسین، وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانی, بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے مسائل میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں اور دن رات کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ برطانیہ اور یورپ میں مقیم پاکستانی اپنے وطن سے گہرا رشتہ رکھتے ہیں اور پاکستان کی خوشحالی، ترقی اور استحکام کے لیے مسلسل اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر شوکت علی شیخ نے اہم اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی منظوری ہو چکی ہے اور جلد اس منصوبے پر عملی کام شروع ہونے والا ہے۔ ان کے مطابق ایئرپورٹ کی تعمیر کی ذمہ داری ان کی اوورسیز کمپنی ایکسچینج حب انٹرنیشنل کے سپرد ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے حاصل ہونے والی آمدن پاکستان اور کشمیری عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کی جائے گی، جبکہ ایئرپورٹ کی تعمیر سے بیرون ملک مقیم کشمیریوں کو سفری سہولتوں میں نمایاں بہتری اور آسانی ملے گی۔
ڈاکٹر شوکت علی شیخ نے مسلم لیگ (ق) کی مرکزی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔ دورے کے دوران مختلف سرکاری اداروں کے حکام سے ملاقاتیں بھی متوقع ہیں، جن میں اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل پر براہِ راست گفتگو کی جائے گی۔
واضح رہے کہ مسلم لیگ (ق) اوورسیز ونگ عالمی سطح پر پارٹی کی پہچان کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، اور اس دورے کو جماعت کی تنظیمی وسعت کے لیے نہایت اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔