فنونِ لطیفہ بین الاقوامی مفاہمت اور ثقافتی روابط کا پل ہیں: آصفہ بھٹو زرداری

تفصیلات- (عفت رؤف): خاتونِ اوّل آصفہ بھٹو زرداری نے ابو ظہبی آرٹ 2025 کی بین الاقوامی نمائش کے دوران منارِ السعدیات میں ثقافت و ورثہ کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کی۔ اس موقع پر وہ نمائش کنندگان کے ساتھ تبادلہ خیال کر رہی تھیں اور فن پاروں کا گہرائی سے معائنہ کیا۔

ترجمان ایوان صدر کے مطابق، ا کہ اس طرح کی عالمی سطح پر منعقد ہونے والی نمائشیں بصری فنون کو فروغ دینے اور معاصر فنون کو اجاگر کرنے میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فن صرف جمالیاتی اظہار نہیں بلکہ ثقافتی تعلقات اور بین الاقوامی ہم آہنگی کا ایک طاقتور ذریعہ ہے۔

خاتونِ اوّل کے ہمراہ ان کی بہن بختاور بھٹو زرداری بھی موجود تھیں، اور مشترکہ دلچسپی کی بنیاد پر مختلف نمائش کنندگان سے ملاقاتیں کیں۔
ابو ظہبی آرٹ 2025 کی تفصیل یہ نمائش 19 تا 23 نومبر 2025 تک جاری رہی۔ منارِ السعدیات، سادیات آئی لینڈ۔
اس میں 140 سے زائد گیلیریز شامل ہیں، جو دنیا بھر کے فنکاروں اور نمائش کنندگان کو یکجا کرتی ہیں۔

ایک اہم نمائش سیکشن “Gateway 2025” ہے، جس کی کوکیوریشن Brook Andrew نے کی ہے۔ اس کا عنوان ہے “Seeds of Memory” (یادوں کے بیج)۔

اس تھیم کے تحت فنکاروں نے ہجرت کو تصوراتی انداز میں پیش کیا ہے — نقل مکانی، ثقافتی تعلقات، یادیں اور تبدیلی کی کہانیوں کو مختلف زاویوں سے بیان کیا گیا ہے۔

اس سال کی نمائش میں پیس گیلری (Pace Gallery) ایک بڑا حصہ لے رہی ہے، جہاں شیشہ، اسٹیل، برانز، ماربل، اور دیگر مادّوں سے بنے مجسمے پیش کیے گئے ہیں۔
ٹیم لیب (teamLab) کا بھی کام پیش کیا گیا ہے: ان کی انسٹالیشن “Persistence of Life in the Sandfall” ایک 12‑اسکرین ورچوئل آرٹ پیس ہے۔

اس نمائش کی سرپرستی شیخ خالد بن محمد بن زائد ال نہیان، کراؤن پرنس آف ابو ظہبی اور ایگزیکٹو کونسل کے چیئرمین نے کی ہے۔ محمد خلیفہ ال مبارک، جو ڈیپارٹمنٹ آف کلچر اینڈ ٹورسٹم – ابو ظہبی (DCT) کے چیئرمین ہیں، نے اس بات پر زور دیا کہ یہ تہوار ابوظبی کو ایک بین الاقوامی ثقافتی مرکز کے طور پر پیش کرتا ہے اور تخلیقی معیشت کو مضبوط کرتا ہے۔

خاتونِ اوّل آصفہ بھٹو زرداری کا یہ دورہ اور ان کی میٹنگ نہ صرف پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ثقافتی تعلقات کو فروغ دینے کا ثبوت ہے بلکہ ایک ایسے وقت میں بھی اہم ہے جب عالمی سطح پر ثقافتی تبادلے — خاص طور پر فنونِ لطیفہ کے ذریعے — امن، مفاہمت اور مشترکہ اقدار کی تعمیر میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔ ان کی شرکت اور اظہار خیال اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ فن اور ثقافت کو سیاست اور سفارتی تعلقات کے ایک اہم ستون کے طور پر دیکھتی ہیں۔

About The Author

اپنا تبصرہ لکھیں