پروفیسر عرفان صدیقی سے ایک ملاقات اور پروفیشنل ازم پر ان کا سٹینڈ۔

سینئر صحافی جمیل مرزا

اسلام آباد: (سی این این اردو)جنرل الیکشن 1997 کے لیے امیدواروں کی جانب سے کاغذات نامزدگی ریٹرنگ افسران کے پاس جمع کرانے کا سلسلہ جاری تھا تو میں نے روزنامہ خبریں اسلام آباد کے فرنٹ پیج پر سپر لیڈ سٹوری دی جس میں مستقبل کے عوامی نمائندوں کے اپنے داخل کروائے گے گوشواروں میں انکے اثاثہ جات کی تفصیلات بتائی گئیں تھیں۔

ماضی کے بعد مستقبل کے متوقع عوامی نمائندوں نے اگرچہ کمال ہوشیاری سے اپنے اثاثے کم ظاہر کیے تھے مگر پھر بھی اس قدر زیادہ بنک بیلنس، کمرشل اور ریذڈینشیل پراپرٹیز، گاڑیاں، زیوارت، زرعی رقبوں کا ذکر تھا کہ ایک ہوش ربا صورتحال برپا تھی۔

خبر بھی سپر لیڈ تھی۔ ایڈیٹر روزنامہ خبریں جناب خوشنود علی خان کے پاس قوم کے رہبروں کی جانب سے اس سٹوری پر بہت گلے شکوے آئے مگر سابق صدر پاکستان جنرل ضیا الحق کے صاحبزادے محمد اعجاز الحق تو سیخ پا ہوئے۔

پروفیسر عرفان صدیقی کے ہمراہ خبریں اخبار کے ستارہ مارکیٹ اسلام آباد دفتر ایڈیٹر خبریں کے پاس پہنچ گئے۔ ان کا احتجاج اور اعتراض یہ تھا کہ انکی پراپرٹی کی جو وارثتی ویلیو ہے وہ شمار کرنے کی بجائے آج کی کرنٹ مارکیٹ ریٹ ویلیو کیوں لکھی گئی جو ویلیو بہت زیادہ ہونے پر انکو یہ پریشانی لاحق تھی کہ انکے بارے میں یہ تاثر قائم ہوگا کہ وہ بہت امیر سیاستدان ہیں۔

ایڈیٹر خبریں نے انہیں خبریں راولپنڈی دفتر آلہ دین فن ہاؤس بلڈنگ میرے پاس بھجوایا تو پروفیسر عرفان صدیقی بھی انکے ہمراہ تھے۔ جب میں نے انکے احتجاج اور اعتراض کے جواب میں اپنی ٹھوس دلیل پیش کی کہ جب آپ نے گوشوارے میں پراپرٹی کی کرنٹ مارکیٹ ریٹ ویلیو خود ظاہر کی ہے تو میں کیوں وارثتی ویلیو اپنی سٹوری میں لکھتا میں۔

جس پر پروفیسر عرفان صدیقی نے میرے مؤقف کی بھرپور تائید کی اور میرے مؤقف کو ٹھوس دلیل پر مبنی قرار دیا۔ جس پر اعجاز الحق مزید غصے میں آئے تو پروفیسر عرفان صدیقی نے کمال تدبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں اس طرح ٹھنڈا کیا کہ آپ نے اپنے گزشتہ دو ادوار میں بطور ایم این اے اور وفاقی وزیر جو حلقے میں کام کروائے ہیں ان پر مبنی انٹرویو دے دیں تاکہ آپکو اس کا انتخابی فائدہ پہنچ سکے۔

جس پر وہ با خوشی راضی ہوگئے تو میں نے اعجاز الحق سے ان ترقیاتی کاموں کی تفصیلات لے کر انہیں انٹرویو کی شکل میں اگلے روز شائع کردیا تاکہ انکی تشفی ہوسکے۔

خبریں دفتر سے روانگی کے وقت جناب عرفان صدیقی نے ایک مرتبہ پھر مجھے میری شاندار سٹوری پر شاباش دی اور یہ کہہ کر رخصت ہوئے:
Keep it up Dear.

پروفیسر عرفان صدیقی اللہ پاک آپ کی قبر پر لاکھوں رحمتیں نازل فرمائے اور جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے۔
آمین ثمہ آمین۔

About The Author

اپنا تبصرہ لکھیں