جسٹس ریٹائرڈ افتخار احمد چیمہ اعلی پائے کا منصف اور کامیابی کی ھیٹرک کرنے والا پارلیمنٹرین

جمیل مرزا سینئر صحافی ماضی کے جھروکوں سے جھانکتے ہوئے

اسلام آباد: 8 نومبر 2025 کو جسٹس ریٹائرڈ افتخار احمد چیمہ دل کا دورہ پڑنے سے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ ان کی تدفین 9 نومبر کو ان کے آبائی قبرستان میں کر دی گئی۔
یہ محض ایک جج کا نہیں، ایک درویش صفت انسان کا ذکر ہے، جو عدالتی منصب پر بیٹھ کر بھی اپنے ضمیر کی عدالت سے کبھی غافل نہ ہوئے۔
یہ سال 2001 تھا جب میں لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ کے ایک عظیم جج کی عدالت میں بیٹھا تھا کہ اچانک اس عدالت کے جج جسٹس افتخار احمد چیمہ اپنی کرسی سے اٹھے اور کمرہ عدالت میں موجود سائلین کو مخاطب کرکے بولے میں آج ریٹائر ہو رہا ہوں میری صرف یہ گزارش ہے کہ جو لوگ اس عدالت میں موجود ہیں اور جو موجود نہیں ان تک میرا یہ پیغام پہنچا دیں کہ مجھ سے پیشہ وارانہ فرائض کی ادائیگی میں کوئی کوتاہی ہوئی ہو میرے رویے سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہو وہ مجھے معاف کردے اگر معاف نہیں کرنا چاہے تو وہ مجھ اس کا بدلہ لے لے۔

یہ الفاظ بولنے کے بعد جسٹس چیمہ اپنے چیمبر کی طرف بڑھے پھر رکے، کمرہ عدالت میں موجود افراد پر ایک طائرانہ نظر ڈالی اور انکی نظر مجھ پر آکر رک گئی اور مجھے مخاطب کرکے کہا جمیل مرزا آپ چیمبر میں آجائیں۔ جب میں چیمبر میں داخل ہوا تو جج صاحب وضو کرکے واش روم سے نکلے اور جائے نماز بچھا کر دو رکعت نماز نفل ادا کیے اور پھر دعا مانگنے کے لیے ہاتھ اٹھائے تو ان کے الفاظ تھے: “یا اللہ معاف فرمانا، میرا ضمیر مطمئن نہیں، منصب سے جو انصاف کرنا تھا نہ کرسکا۔”

اور پھر اس قدر رقت آمیز انداز میں اللہ کے حضور گڑگڑا کر دعا کی کہ ان پر ایسی صورتحال طاری ہوئی کہ وہ جائے نماز پر گر پڑھے۔ میں نے عدالتی معاونین کے ساتھ ان کو سہارا دے کر کرسی پر بٹھایا تو وہ ایک ہی جملہ بار بار دہرا رہے تھے: “ضمیر مطمئن نہیں، وہ نہ کرسکا جو منصب کا تقاضا تھا۔”

جب جج صاحب کی طبعیت ذرا سنبھلی، قہوہ منگوایا گیا۔ میں نے ان کے ساتھ قہوہ پی کر اس گزارش کے ساتھ اجازت چاہی کہ آپ مجھے روزنامہ خبریں اتوار میگزین کے لیے انٹرویو دیں گے۔ جج صاحب نے وعدہ کیا اور فرمایا آج ریٹائر ہوگیا ہوں، 10 دن گلستان کالونی ججز ریسٹ ہاؤس میں بیٹھ کر جو فیصلے سنا چکا ہوں وہ لکھواں گا، آپ جب مرضی ہو تشریف لے آئیں۔

پھر ایک دن کے وقفے کے بعد میں جب گلستان کالونی ججز ریسٹ ہاؤس پہنچا تو گیٹ پر میرا نام مہمانوں کے رجسٹر میں پہلے سے لکھا تھا۔ میں جسٹس چیمہ کے ڈرائنگ روم میں داخل ہوا تو وہ اپنے جوتے خود پالش کررہے تھے۔ مجھے بیٹھنے کا کہہ کر وہ ہاتھ دھونے گئے اور واپسی پر گرم جوشی سے ملے۔ بطور کورٹ رپورٹر میری رپورٹنگ کی تعریف کی، میری پھلوں، جوس اور مٹھائی سے تواضع کی۔

میری بے چینی دیکھ کر کہنے لگے بسمہ اللہ کریں، کیا پوچھنا ہے؟ تو میرا سوال تھا: “آپ کون ہیں؟ میں نے ایسا جج کبھی نہیں دیکھا، آپ کا فیملی بیک گراؤنڈ کیا ہے؟” تو جسٹس افتخار احمد چیمہ بتانے لگے:

میرے والد علاقہ وزیر آباد کے بڑے زمیندار تھے۔ انہوں نے 1932 سے پہلے گریجویشن کرلی تھی۔ علاقے کے دیگر زمینداروں کا والد صاحب سے یہ گلہ تھا کہ آپ نے سارے کمیوں (کامے) کے دماغ خراب کردئیے ہیں۔ ہم انہیں زمین پر بٹھا کر خود کرسیوں اور چار پائیوں پر بیٹھتے ہیں، آپ انہیں اپنے برابر بٹھاتے ہیں۔ تو میرے والد کا جواب ہوتا کہ آپ اللہ سے نہیں ڈرتے، انسان سب برابر ہیں، بڑائی صرف تقوی کی بنیاد پر ہے۔ مگر روایتی چوہدری اس بات کو کہاں تسلیم کرتے ہیں۔

جسٹس چیمہ بتانے لگے: میں خوبرو، صحت مند اور اچھے قد کاٹھ کا جوان اور بڑے زمیندار ڈیرے دار کا بیٹا تھا۔ تو ایک دن غصے میں آکر گاؤں کے کمی کو تھپڑ مار کر حکم دیا کہ شام تک تم گاؤں چھوڑ کر نکل جانا۔ میری یہ بات سننے والوں نے معاملہ والد صاحب تک پہنچایا تو انہوں نے میری بات کی تصدیق کے لیے ایک بندہ میرے پاس بھیجا۔ جھوٹ بولنے کی عادت نہیں تھی اور جو سچ تھا بتا دیا۔

میرے جواب سے بات کی تصدیق ہونے پر والد صاحب نے یہ حکم جاری کردیا کہ شام تک کمی گاؤں نہیں چھوڑے گا بلکہ میرا بیٹا افتخار احمد چیمہ گاؤں چھوڑ کر جائے گا۔ والد صاحب کا فیصلہ مجھ تک پہنچایا گیا تو میں سیدھا گھر گیا۔ گھر میں داخل ہوا تو والدہ محترمہ نے انگلی کے اشارے سے کہا کہ وہ ٹفن اور کپڑے وغیرہ ہیں، لے لو اور چلے جاؤ۔ میں نے حکم کی تعمیل کی اور قریبی گاؤں میں اپنے عزیزوں کے پاس جا کر بتایا کہ مجھ سے ایک غلطی ہوئی تو والد صاحب نے گاؤں سے نکال دیا۔

کچھ دن اس گاؤں میں قیام کیا اور پھر اس گاؤں کے دو تین معززین میرے والد کے پاس پہنچے اور کہا چیمہ صاحب افتخار بچہ ہے، جوان ہے، اس نے غلطی کردی، اسے معاف کردیں۔ تو والد صاحب کا جواب تھا: اس نے میری کوئی حکم عدولی نہیں کی، مجھے اپنی حیثیت میں بطور باپ اس کے اپنے ساتھ کسی رویے پر کوئی گلہ شکوہ نہیں، مگر یہ حقوق العباد کا معاملہ ہے۔ افتخار کو اللہ تعالیٰ بھی اسی صورت معاف کرسکتا ہے کہ جس کو تھپڑ مارا، جس کا دل دکھیا وہ معاف کردے، تو مجھے اس کے گاؤں اور گھر واپسی پر کوئی اعتراض نہیں۔

تو یہ طے پایا کہ والد صاحب اور گاؤں کے معززین کی موجودگی میں میں، افتخار چیمہ، اس کمی سے معافی مانگوں گا۔ پھر میں نے سب کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کمی سے معافی مانگی۔ اس نے معاف کردیا، میں نے اسے گلے لگایا تو میرے والد کی آواز گونجی: افتخار نے تھپڑ بھی مارا تھا، اس کے منہ پر تھپڑ مارو۔

کمی نے ڈرتے ڈرتے میرے منہ پر تھپڑ مارا تو والد کی دوبارہ آواز گونجی: افتخار کا ہاتھ بھاری ہے، تم نے بہت ہلکا تھپڑ مارا ہے، ایک اور زور دار تھپڑ مارو۔ پھر کمی نے ایک زناٹے دار تھپڑ میرے منہ پر رسید کیا۔ دوبارہ میں نے کمی کو گلے لگایا اور یہ منظر گاؤں کے سب معززین نے دیکھا۔

جسٹس چیمہ کہنے لگے: میری اور میرے دوسرے بھائیوں ڈاکٹر نثار چیمہ اور ذوالفقار چیمہ کی تربیت اس عظیم والد اور عظیم والدہ نے کی جن کی سوچ برابری، انصاف، رواداری اور ہر کسی کے دکھ تکلیف کو اپنا دکھ اور تکلیف سمجھنے کی تھی۔

یہ ایک تاریخی انٹرویو تھا جسے روزنامہ خبریں اتوار میگزین کے ٹائٹل پر چھاپا گیا اور مکمل پروفائل شائع کی گئی۔ جسٹس سسٹم پر کئی سوالات تھے، ان کے جوابات بھی انتہائی اہم تھے۔

آج جسٹس ریٹائرڈ افتخار احمد چیمہ بار ایٹ لا لنکنز ان لندن، تین مرتبہ کے سابق ممبر قومی اسمبلی، اس عارضی دنیا کو چھوڑ چکے ہیں۔جسٹس چیمہ کو وزیر آباد میں انکے گاؤں کٹھور کلاں میں اپنے عظیم والد کے پہلو میں سپرد خاک کردیا گیا۔
اللہ پاک انکی کامل مغفرت فرمائے، درجات بلند ہوں، جنت میں اعلی مقام عطا ہو۔
آمین ثمہ آمین۔

About The Author

اپنا تبصرہ لکھیں