وینزویلا کا فوجی قوت کا وسیع مظاہرہ — امریکی بحری بیڑے کی آمد پر ردِعمل

ویب ڈیسک: وینزویلا نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکی فوجی سرگرمیوں میں اضافے کے جواب میں اپنی زمینی، فضائی، بحری اور ریزرو فورسز کی ’’بڑی سطح کی نقل و حرکت‘‘ شروع کر رہا ہے۔

وینزویلا کے وزیرِ دفاع ولادیمیر پادری نو لوپیز کے مطابق یہ فوجی مشقیں بدھ تک جاری رہیں گی، جنہیں انہوں نے امریکی فوجی موجودگی کو ’’سامراجی خطرہ‘‘ قرار دیتے ہوئے ایک ’’جوابی اقدام‘‘ کہا۔ ان مشقوں میں باقاعدہ فوج کے ساتھ بولیویرین ملیشیا بھی شامل ہوگی — یہ ایک شہری ریزرو فورس ہے جو مرحوم صدر ہیگو شاویز کے دور میں سیمون بولیوار کے نام سے منسوب کر کے قائم کی گئی تھی۔

سی این این کے مطابق، پادری نو لوپیز نے بتایا کہ یہ کارروائی براہِ راست صدر نکولس مادورو کے حکم پر کی جا رہی ہے، جس کا مقصد ’’کمان، کنٹرول اور مواصلات کے نظام کو بہتر بنانا‘‘ اور ملک کے دفاع کو مضبوط بنانا ہے۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکہ نے اپنا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ لاطینی امریکا کے علاقے میں تعینات کیا ہے۔ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے گزشتہ ماہ جہاز کو یورپ سے کیریبین بھیجنے کا حکم دیا تھا۔ اس بحری بیڑے کے ساتھ نو فضائی اسکواڈرنز، دو میزائل بردار تباہ کن جہاز (یو ایس ایس بین برج اور یو ایس ایس ماہن)، ایک کمان و دفاعی جہاز (یو ایس ایس ونسٹن ایس چرچل) اور چار ہزار سے زائد امریکی اہلکار شامل ہیں۔

امریکہ کے مطابق اس کی یہ کارروائیاں منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف ہیں، تاہم کاراکاس کا کہنا ہے کہ واشنگٹن درحقیقت حکومت کی تبدیلی کی کوشش کر رہا ہے۔ بعض امریکی حکام نے بھی نجی طور پر تسلیم کیا ہے کہ ان کی حکمتِ عملی کا مقصد مادورو حکومت کو کمزور کرنا ہے۔

گزشتہ ماہ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہوں نے سی آئی اے کو وینزویلا میں سرگرم ہونے کی اجازت دے دی ہے، اور اشارہ دیا تھا کہ وہ ملک کے اندر کارروائی پر غور کر سکتے ہیں — اگرچہ بعد میں امریکی انتظامیہ نے اس امکان کی تردید کی۔

وزیرِ دفاع پادری نو لوپیز نے کہا کہ یہ فوجی نقل و حرکت مادورو کے “انڈیپینڈنس پلان 200” کا حصہ ہے — ایک قومی منصوبہ جس کا مقصد فوج، ملیشیا اور پولیس فورسز کو ایک مربوط دفاعی نظام میں منظم کرنا ہے۔

وینزویلا کی باقاعدہ فوج، بولیویرین نیشنل آرمڈ فورسز، میں تقریباً ایک لاکھ تئیس ہزار اہلکار شامل ہیں۔ مادورو کے مطابق ملک میں رضاکار ملیشیا کے آٹھ ملین سے زائد ارکان ہیں، اگرچہ ماہرین ان اعداد و شمار اور ان کے تربیتی معیار پر سوال اٹھاتے ہیں۔

امریکی بیڑے کی آمد کے بعد خطے میں اب پندرہ ہزار کے قریب امریکی اہلکار موجود ہیں۔ مزید برآں، امریکہ نے پورٹو ریکو میں 10 ایف-35 لڑاکا طیارے اور تین ایم کیو-9 ریپر ڈرونز تعینات کیے ہیں، جہاں تقریباً پانچ ہزار امریکی فوجی پہلے سے موجود ہیں۔

امریکی بحری اثاثوں میں آئیوو جیما ایمفیبیئس گروپ، 22ویں میرین یونٹ، تین میزائل بردار تباہ کن جہاز، ایک حملہ آور آبدوز، ایک خصوصی آپریشنز جہاز، ایک میزائل کروز اور پی-8 پوسائیڈن جاسوس طیارے بھی شامل ہیں — جو خطے میں امریکی موجودگی کے واضح اضافے کی علامت ہیں۔

About The Author

اپنا تبصرہ لکھیں