پاکستان کا دورہ: اخوت اور دوستی کے رشتوں کی تجدید-تحریر: محمد باقر قالیباف، اسپیکر، مجلسِ شوریٰ اسلامی، اسلامی جمہوریہ ایران

تحریر: محمد باقر قالیباف، اسپیکر، مجلسِ شوریٰ اسلامی، اسلامی جمہوریہ ایران

پاکستان میں اپنے بھائیوں اور بہنوں کے درمیان ہونا میرے لیے نہایت اعزاز اور مسرت کا باعث ہے۔ آپ کا ملک، پاکستان، عالمِ اسلام کا ایک اہم اور مؤثر رکن اور ہمارے خطے کا ایک بااثر شریکِ کار ہے۔ ہمارے دو ممالک کے تعلقات گہرے تاریخی، ثقافتی، مذہبی، سیاسی اور اقتصادی رشتوں پر قائم ہیں۔ لیکن ہمارے لیے، ایرانیوں کے نزدیک، پاکستان کی اہمیت صرف ریاستی تعلقات تک محدود نہیں — بلکہ یہ دل اور ایمان کا رشتہ ہے۔

ایران اور پاکستان دو برادر اسلامی ممالک ہیں جو باہمی محبت اور احترام کے اٹوٹ رشتے میں بندھے ہوئے ہیں۔ ہمارے عوام کے درمیان یہ اخوت دونوں حکومتوں کا سب سے قیمتی اثاثہ ہے۔ ایران اور پاکستان تہذیبی و ثقافتی اعتبار سے ایک دوسرے سے گہری وابستگی رکھتے ہیں، جن کی بنیاد مشترک تاریخ، ایمان اور امن و ترقی کے یکساں وژن پر قائم ہے۔ ایران کو اس بات پر فخر ہے کہ وہ پاکستان کی آزادی کو تسلیم کرنے والا پہلا ملک تھا، اور تب سے دونوں ممالک نے باہمی تعاون اور خیرسگالی کے مضبوط تعلقات برقرار رکھے ہیں۔
علامہ اقبال لاہوری جیسی عظیم شخصیات ہمارے دونوں ممالک کی فکری اور روحانی یکجہتی کی زندہ علامت ہیں۔ ان کا کلام اور فلسفہ ایران و پاکستان کے عوام کی مشترکہ آرزوؤں اور نظریات کی عکاسی کرتا ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران اور اسلامی جمہوریہ پاکستان دونوں کے پاس مضبوط، فعال اور بااثر پارلیمان ہیں۔ پارلیمانی سفارت کاری کی روایت دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ اور نتیجہ خیز رہی ہے۔ مجلسِ شوریٰ اسلامی ایران میں ہم پاکستان کی پارلیمان کے ساتھ تعاون کو مزید گہرا کرنے اور دونوں حکومتوں کی تمام شعبوں میں تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔

ایران اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ اقتصادی تعاون کے فروغ کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ دونوں ممالک کی معیشتیں کئی شعبوں میں ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں۔ سرحدی تجارتی منڈیاں دوطرفہ تجارت کے فروغ کا ایک اہم ذریعہ ہیں، جنہیں مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے تاکہ باہمی تجارت کو 10 ارب ڈالر کے ہدف تک پہنچایا جا سکے۔

ایران اور پاکستان کو مشترکہ چیلنجز اور دشمنوں کا سامنا ہے۔ دونوں ممالک نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عظیم قربانیاں دی ہیں اور امن و استحکام کے لیے صفِ اول میں کھڑے رہے ہیں۔ اسی جدوجہد کے ساتھ، دونوں ممالک نے ہمیشہ فلسطین کے مظلوم عوام کی حمایت میں متحد ہو کر ظلم و جارحیت کے خلاف اصولی اور واضح مؤقف اختیار کیا ہے۔ صہیونی رژیم پوری اسلامی دنیا کے امن و سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ بنی ہوئی ہے۔ غزہ میں اس کے بہیمانہ حملوں نے ایک بار پھر اس کی غیر انسانی اور توسیع پسندانہ فطرت کو بے نقاب کر دیا ہے۔ اس تنازعے کے آغاز ہی سے ایران اور پاکستان نے فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے اور یہ حمایت ہمیشہ جاری رہے گی۔

اسرائیل کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران پر مسلط کی گئی بارہ روزہ جارحیت اس رژیم کی دشمنی اور جارحانہ رویّے کی تازہ مثال تھی۔ تاہم، ایرانی عوام اور مسلح افواج نے پوری قوت اور وقار کے ساتھ اپنی خودمختاری کا دفاع کیا اور دشمن کو واضح اور مضبوط جواب دیا۔ میں اس موقع پر حکومتِ پاکستان، پارلیمان اور پاکستانی عوام کا تہہِ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے ان مشکل دنوں میں برادرانہ حمایت اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔

ایران اور پاکستان مشترکہ چیلنجز کے مقابلے میں شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے، اس یقین کے ساتھ کہ پاکستان کا امن و استحکام ایران کے امن و استحکام سے جدا نہیں۔

ہمارے دونوں ممالک کے درمیان قریبی اور دوستانہ تعلقات کی طویل تاریخ ہے جو باہمی اعتماد اور اخوت پر مبنی ہے۔ جس طرح ہم نے برسوں اس یکجہتی کو قائم رکھا، اسی طرح آئندہ برسوں میں بھی ہمیں اسے مزید مضبوط بنانا ہوگا۔ ہمیں چاہیے کہ اسلام کے مقدس پرچم تلے باہمی تعاون کی راہوں میں حائل رکاوٹوں کو دور کریں اور دونوں اقوام کی خوشحالی، عزت اور ترقی کے لیے کوششیں جاری رکھیں۔

آخر میں، میں پاکستان کی پارلیمان کے اپنے بھائیوں کی جانب سے دی گئی پرتپاک میزبانی پر دلی قدردانی کا اظہار کرتا ہوں۔ میں خداوندِ متعال سے دعا گو ہوں کہ وہ پاکستان کے عظیم عوام اور حکومت کو ہمیشہ امن، خوشحالی اور کامیابی سے نوازے۔

About The Author

اپنا تبصرہ لکھیں