دریائے راوی، چناپ اور ستلج میں سیلاب پنجاب کے متعدد اضلاع متاثر وزیراعظم کا ہنگامی اجلاس

اسلام آباد وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بدھ کے روز پنجاب میں شدید بارشیں اور بالخصوص دریائے چناب، ستلج اور راوی پر ممکنہ سیلابی صورتحال پر ہنگامی اجلاس کی صدارت کی ہے۔اجلاس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف کو حالیہ بارشوں کے پیش نظر سیلابی صورتحال پر چیئرمین این ڈی ایم اے نے بریفنگ دی۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ این ڈی ایم اے، پنجاب کے پی ڈی ایم اے کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے۔پیشگی اطلاع پہنچانے کا سلسلہ مزید موثر انداز میں جاری رکھا جائے۔این ڈی۔ایم۔اے نے پنجاب کے متاثرہ علاقوں کے لیے خیمے مہیا کیے ہیں دیگر ضروری سامان کی ترسیل بھی جاری رکھی جائے ۔

وزیراعظم نے کہا گجرات، سیالکوٹ، لاہور میں اربن فلڈنگ کی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری انتظامی اقدامات فوری طور پر اٹھائے جائیں۔پنجاب میں سیلابی صورتحال کے پیش نظر بجلی کی بلا تعطل فراہمی، ذرائع مواصلات اور سڑکوں کی بحالی کے لیے وزیر مواصلات وزیر توانائی، سیکرٹری توانائی اور چیئرمین این ایچ اے ،لاہور پہنچ کر صوبائی حکومت کے ساتھ عملی اور بھرپور تعاون کریں۔ کسی بھی صوبے میں سیلابی صورتحال سے پیدا ہونے والے مسائل کو ملکی سطح پر مکمل ہم اہنگی سے حل کیا جائے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخواہ میں حالیہ سیلابی صورتحال کے پیش نظرہر ممکن تعاون فراہم کیا۔ پنجاب میں بھی وفاقی حکومت بھرپور تعاون کرے گی۔صوبہ سندھ میں سیلابی ریلے کی پنجاب کے بعد آمد کی ہر وقت پیشگی اطلاع کو یقینی بنایا جائے تاکہ ممکنہ نقصانات سے بچا جا سکے۔عوامی نمائندگان اور حکومتی ادارے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بروقت انخلاء، محفوظ مقام پر منتقلی اور امدادی کاروائیوں کی موثر نگرانی کریں۔سیلابی صورتحال کے پیش نظر انسانی جان و مال، فصلوں اور مال مویشی کو ممکنہ نقصان سے بچانے کے لیے موثر حکمت عملی کے تحت حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔سیلابی صورتحال سے دو چار تمام ڈسٹرکٹ اور تحصیل لیول پر درپیش مسائل کو لوکل اور صوبائی انتظامیہ کے ساتھ مل کر ہنگامی بنیادوں پر حل کیا جائے۔

اجلاس میں وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ دریائے چناب میں پانی کا اخراج بڑھنے کے پیش نظر ہیڈ مرالہ اور خانکی کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے۔دریائے راوی میں جسٹر اور شاہدرہ اور دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا اور سلیمانکی کے مقام پر پانی کے اخراج کا زیادہ دباؤ ہے۔خانکی، بلوںکی اور قادر آباد میں پانی کے اخراج سے پیدا ہونے والے دباؤ کی نگرانی کی جا رہی ہے۔

چیئرمین این ۔ڈی ۔ایم۔ اے نے اجلاس میں بتایا کہ ریسکیو 1122، سول ڈیفنس، رینجرز، پی ڈی ایم اے اور تمام دیگر متعلقہ ادارے پوری مستعدی سے کام کر رہے ہیں۔ بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ پنجاب کے کچھ علاقوں میں سلابی صورتحال کے نقصانات سے بچاؤ کے لیے پیشگی انخلاء کے لیے آرمی کے جوانوں اور پولیس کی خدمات کو حاصل کیا گیا ہے۔

اجلاس میں وفاقی وزیر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ احسن اقبال، وفاقی وزیر توانائی اویس احمد لغاری، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر برائے اکنامک افیئرز ڈویژن احد خان چیمہ، چیئرمین این ڈی ایم اے اور متعلقہ سرکاری حکام نے شرکت کی۔

دوسری طرف این ذی ایم اے نے دریائے چناب، راوی و ستلج کے لیے ایمرجنسی الرٹ جاری کیئے ہیں۔نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر کے مطابق، دریائے چناب، راوی اور ستلج میں غیر معمولی سیلابی صورتحال۔دریائے چناب میں مرالہ پر 6.9لاکھ کیوسک کا انتہائی اونچے درجے کا سیلابی ریلہ موجود جو مزید تجاوز کر سکتا ہے۔دریائے راوی میں جسر کے مقام پر 1.7 لاکھ کیوسک کا اونچے درجے کا سیلابی ریلہ گزر رہا ہے جو صبح تک 2.5 لاکھ کیوسک پر پہنچ سکتا ہے۔ دریائے راوی میں سیلابی ریلے کیوجہ سے شاہدرہ ،پارک ویو اور موٹر وے ٹو کے نشیبی علاقوں پر سیلاب کا خطرہ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر 2.45 لاکھ کیوسک کا انتہائی اونچے درجے کا سیلابی ریلہ موجود جس میں مزید اضافہ متوقع۔عوام الناس کو ہدایات دی گئی ہیں کہ دریاؤں کے کناروں اور واٹر ویز پر رہائش پذیر افراد فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔ مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر فوری عمل کریں اور ہنگامی حالات میں امدادی ٹیموں سے رابطہ کریں۔سیلاب زدہ علاقوں میں غیر ضروری سفر سے مکمل گریز کریں۔ ہنگامی کٹ (پانی، خوراک، ادویات) تیار رکھیں اور اہم دستاویزات محفوظ کریں۔

دریائے سندھ پر تربیلا ڈیم الرٹ
پیشگی اطلاع کے مطابق تربیلا ڈیم کے سپل ویز آج رات 2 بجے اپریشن میں لائے جایئں گے اور ڈیم سے ٹوٹل اخراج 250000 کیوسک تک اور سیلابی سطح نیچلے درجے کے سیلاب میں رہنے کا امکان۔ آبی گزرگاہوں سے دور رہیں اور مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں ۔دریائے چناب میں بہاؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ہیڈ مرالہ کے مقام پر بہاؤ 7.7 لاکھ کیوسک سے تجاوز کر چکا ہے جو کہ انتہائی خطرناک سیلابی سطح ہے۔خانکی کے مقام پر بہاؤ 4.5 لاکھ کیوسک تک شدید سیلابی صورتحال پر پہنچ گیا ہے ۔

نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر کے مطابق، دریائے راوی میں سیلابی صورتحال انتہائی سنگین ہے۔ جسر کے مقام پر بہاؤ 2 لاکھ کیوسک سے تجاوز کر چکا ہے جو کہ غیر معمولی بلند سیلابی سطح ہے۔کوٹ نینا کے مقام پر بہاؤ 2.5 لاکھ کیوسک تک پہنچ گیا ہے۔شاہدرہ کے مقام پر ہائی الرٹ جاری، شدید سیلابی خطرہ۔ جسر پر اگلے چند گھنٹوں میں بہاؤ ڈیزائن گنجائش 2.75 لاکھ کیوسک سے تجاوز کر سکتا ہے۔کوٹ نینا سے جسر تک بہاؤ کا وقفہ 12 گھنٹے ہے۔دریائے چناب میں مرالہ پر شدید سیلابی صورتحال ہیڈ مرالہ کے مقام پر بہاؤ 9 لاکھ کیوسک سے تجاوز کر چکا ہے جو کہ انتہائی خطرناک سیلابی سطح ہے۔جبکہ ہیڈ مرالہ کی ڈیزائن گنجائش 11 لاکھ کیوسک ہے

About The Author

اپنا تبصرہ لکھیں