تحریر :عفت رؤف
ٹیکسلا شہر تاریخی ،مذہبی و ثقافتی حوالے سے خاص اہمیت رکھتا ہے ایک زمانہ تھا جب یہ علم وادب کا گہوارہ تھا ؛
“حضور ا آپ میرے شہر سے تو واقف ہیں
حضور ! آپ نے تاریخ میں پڑھا ہو گا
یہ شہر علم کا ایک بے کراں سمندر تھا ”
حوادث زمانہ کہیے یا تاریخی منظر نامہ وقت وحالات بدلے اور ٹیکسلا میں سلسلہ ء علم وادب،تہذیب وثقافت تھم گیا ٹیکسلا انجینئرنگ یونیورسٹی،ٹیکسلا کالج ،دی فاونڈر سکول اور علامہ اقبال پبلک سکول نے یہاں علم کے اس بے کراں سمندر کا سلسلہ دراز رکھا
چیف ایگزیکٹو علامہ اقبال پبلک سکول سید ارشاد نبی پاکستان آرڈیننس فیکٹریز کے اعلی عہدے سے سبکدوش ہوئے 1978 میں علامہ اقبال سکول واہ کینٹ 1980 میں ٹیکسلا کیمپس کا آغاز ہوا تو تعلیم کے اس بحر الکاہل نے سینتالیس سال کا طویل عرصہ نہایت تدبر ،حکمت،صبر و تحمل اور تعمیری نظریے سے بسر کیا 80 سالہ سید ارشاد نبی کی ذاتی زندگی پرسکون جب کہ کاروباری تجربات مدوجزر کا شکار رہے وہ خوددار اور خودمختار شخصیت ہونے کے ساتھ ساتھ علم کے ان گنت دروازوں سے بےدھڑک گزر کر ذہنی افق کے منفرد اور اعلی مقام پر فائز ہیں سیاحت ان کی سرشت کا اہم جزو ہے
پرسکون ذاتی زندگی کی کامیابی کا سہرا ان کی شریک سفر کو بھی جاتا ہے دونوں نےگذشتہ برس اپنی ازدواجی زندگی کی گولڈن جوبلی پروقار انداز میں مکمل کی اپنی چار ہونہار صاحب زادیوں کے نام۔پھولوں اور خوشبوؤں کی نسبت سے عنبر،سحر،کنول اور صدف رکھے ان کے داماد اعلی ترین عہدےداران اور نواسے نواسیاں قابل و ذہین ہیں گھر پھولوں،رشتوں،احساسات وجذبات کا آنگن اور درس گاہ صنف نازک کے آہنی کردار اور ادب گوہروں کی آماج گاہ ہے ان کا تعلق سادات گھرانے سے ہے ان کے والد 1949 میں سیالکوٹ سے واہ کینٹ منتقل ہوئے واہ کینٹ کی آبادکاری ان کے سامنے ہوئی وہ تاریخی حقائق سے بخوبی واقف ہیں سیاحت ان کا خاصہء اول ہے اندرون وبیرون ملک ان گنت سفر ان کے تجربات میں شامل ہیں سرکاری وذاتی دوروں میں انھوں نے مختلف النوع ثقافتوں اور اقوام سے روشنائی حاصل کی ان ممالک میں برطانیہ،امریکہ(نیویارک/میکسیکو)،دوہا،قطر،دبئی،
انگلستان ،برازیل،فرانس ،جرمنی،سوئٹزرلینڈ،اٹلی،مصر،سعودی عرب،ازبکستان،قزاقستان اور بنکاک شامل ہیں
سفر تھا علم کا خوابوں کی ایک دنیا تھی
نگر نگر نئی دنیا کے راز پائے ہیں
انھیں آزادی ء پاکستان سے ہنوز ہونے والی تمام جنگوں کا احوال ازبر ہے وہ ایک خوددار،غیرت مند،فرض شناس اور دیانت دار افسر ثابت ہوئے کہ جب انھیں اہم عہدے پر تعینات کیا گیا ان کے گردونواح کے بدعنوان ماحول میں شخصی وقار کو خطرہ لاحق ہوا اور ایمانداری پر حرف آنے کا خدشہ محسوس ہوا تو انھوں نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لینے میں ہی عافیت جانی اور دنیاوی غرض وغایت سے قطع نظر علم کے فروغ میں کوشاں رہے کاروبار کی منفعت سے آشنائی رکھنے کے سبب مختلف اوقات میں پرنٹنگ پریس ،پولٹری فارمنگ،نوائے واہ اخبار،اہلیہ کے لیے بیوٹی پارلر و بوتیک جیسے کاروبار کیے انداز تجارت سے اندازہ ہوا کہ وہ شارٹ کٹ یا بےایمانی پر یقین نہ رکھتے تھے پارٹنر شپ مثبت ہوتی تو کاروبار جاری رہتے انھوں نے ہر کاروبار کا خوب علم و تجربہ حاصل کیا تعمیراتی کام کے تمام رموز سے بخوبی آگاہ ہیں درسگاہ کو تجارت کی جگہ حصول علم کا ذریعہ بنایا عوام پر شب خون مارنے سے اجتناب کیا یہ وہ ادارہ بن گیا جہاں ٹیکسلا جیسے قدامت پسند علاقے کی خواتین بےخوف وخطر بطور استاد پیشہ وارانہ خدمات سرانجام دیتی ہیں طلبا و طالبات ان کے سکول میں سازگار ماحول میں زیر تعلیم ہیں سکول کی اپنی کینٹین،پرٹننگ،کمپیوٹر و سائنس لیب موجود ہے جس سے طلبہ و اساتذہ مستفید ہوتے ہیں یہ علاقے کا واحد سکول ہے جہاں چار سو شرکا کے لیے ایک پرشکوہ آڈیٹوریم بھی قائم کیا گیا ہے شہر کی اہم تقریبات و مشاعرے یہاں منعقد کی جا چکی ہیں لاکھوں روہے کی سکول بس خریدی لیکن وہ دھوکہ بازوں کی عیاری سے شاعر کی” پرانی موٹر” ثابت ہوئی
وہ پی او ایف سے دس سال تک ٹیبل ٹینس کے چیمپئن رہے اور انھیں اعزاز حاصل ہے کہ وہ پہلے افسر تھے جو خواتین کے ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ بنے سکول میں خواتین کی بھرمار ہے لیکن سادات قبیلے کی لاج ایسی قائم رکھی کہ سکینڈل سے محفوظ رہے
سید ارشاد نبی ایک وجیہہ اور بہادر شخصیت ثابت ہوئے 2013 میں دل کا دورہ پڑا تو خود گھر تک پہنچے اور اہل خانہ کی معاونت سے اپنے مرض کی تشخیص کے لیے برطانیہ کا سفر کیا اور موثر علاج کرایا وہ اپنی خودنوشت “میں اور جہان رنگ و بو میں منجھے ہوئے لکھاری محسوس ہوئے عمر بھر کے واقعات کی جامع تلخیص اہم معلومات اور سفر کی تصویری داستان منظم انداز میں مرتب کیں یہ سوانح عمری ان کے 80 سالہ تجربات کی آوٹ لائن ہے جسے سمجھنا کوئی کار سہل نہیں انھوں نے تصاویر اور تلخیص کی مہارت ،طباعت کے جوہر،سماجی روابط کے اثرات سب کو ایک جگہ مجتمع کر کے شاہکار متعارف کرایا سید ارشاد نبی نے تعلیمی فروغ کے سینتالیس سالوں میں سیاسی تعلقات بھی استوار رکھے لیکن سیاسی ڈیروں کی زینت نہ بنے درسگاہ کی لامحدود شاخیں وا کرنے سے گریز کیا تعلق میں وضع داری کے ساتھ اپنا مقام و مرتبہ بحال رکھا دنیا دیکھنے کا پیمانہ۔۔۔۔ تجربہ اور بصیرت رکھا سنی سنائی کو ہمیشہ نظر انداز کیا وہ صاحب بصیرت اور گوہر نایاب کا خصوصی ادراک رکھتے ہیں قیمتی لوگوں کی پرکھ رکھتے ہیں اور انھیں تر نوالہ بننے سے بچا لیتے ہیں
بلاشبہ ارشاد نبی ٹیکسلا کی تعلیمی ترقی کے عظیم مصلح ہیں