سوات مدرسہ قتل کیس: مرکزی ملزمان گرفتار، عدالت نے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا

سوات کے علاقے خوازہ خیلہ کی چالیار میں کمسن طالبعلم فرحان آیاز کے بہیمانہ قتل کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پولیس نے مدرسے کے استاد قاری عمر اور اس کے بیٹے احسان اللہ کو گرفتار کر لیا ہے۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سوات محمد عمر خان کے مطابق ، دونوں ملزمان 21 جولائی کو پیش آنے والے واقعے کے بعد روپوش ہو گئے تھے۔ اپر سوات پولیس کی جانب سے بھرپور سرچ آپریشن کے نتیجے میں ان کی گرفتاری ممکن ہوئی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ 14 سالہ فرحان آیاز کو مدرسے میں مبینہ طور پر شدید جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس کے باعث وہ دم توڑ گیا۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق واقعے میں مدرسے کے دیگر افراد بھی ملوث ہو سکتے ہیں۔

واقعے کے فوراً بعد 9 مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا تھا، تاہم مرکزی ملزمان فرار ہو گئے تھے۔ اب ان کی گرفتاری کے بعد انہیں عدالت میں پیش کیا گیا۔

مقامی صحافی حیدر علی جان نے سی این این اردو کو بتایا کہ واقعے کے بعد پولیس نے 9 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا تھا جن کے خلاف چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اور چار افراد کے خلاف قتل کی دفعات (302) بھی شامل کی گئی ہیں، جن میں سے دو ملزمان واقعے کے بعد سے روپوش تھے۔

حیدر علی جان کے مطابق، گرفتار مرکزی ملزمان قاری عمر اور احسان اللہ کو خوازہ خیلہ اسپتال میں ابتدائی میڈیکل چیک اپ کے بعد عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں جوڈیشل مجسٹریٹ نے ان کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے پولیس کے حوالے کر دیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ قتل ہونے والا بچہ فرحان آیاز، سوات کی تحصیل بحرین کے علاقے “فتح پور پیا” کا رہائشی تھا، جو تعلیم کے لیے چالیار کے اس مدرسے میں زیرِ تعلیم تھا۔

یاد رہے کہ اس واقعے نے سوات سمیت ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی تھی۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور سول سوسائٹی نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش جاری ہے اور مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔

About The Author

اپنا تبصرہ لکھیں