Shia cleric Allama Basharat Hussain Imami addressing a press conference at National Press Club Islamabad regarding restrictions on Muharram processions.

عزاداری ہماری شہ رگِ حیات ہے، اسے جرم یا امن و امان کا مسئلہ نہ بنایا جائے: علامہ بشارت امامی

اسلام آباد – تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان کے سیکرٹری جنرل اور محرم کمیٹی عزاداری سیل کے کنوینئر علامہ بشارت حسین امامی نے واضح کیا ہے کہ عزاداری سید الشہداءؑ اہل تشیع کی مذہبی شناخت اور شہ رگ حیات ہے، اس پر کسی قسم کا سمجھوتہ ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عزاداری اور ذکر حسینؑ کو جرم یا امن و امان کے مسئلے کے طور پر پیش کرنے کی غیر اسلامی اور غیر آئینی روش فوری ترک کی جائے۔

نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں بانیان مجالس و جلوس اور علماء کرام کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ امامی نے کہا کہ عزاداری پر عائد نئی پابندیوں کے خاتمے کا باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے، جبکہ گھروں اور عبادت گاہوں کی چار دیواری میں ہونے والی مجالس کے لیے پیشگی این او سی کی شرط ختم کر کے محض متعلقہ تھانے میں اطلاع دینا کافی سمجھا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ علماء و ذاکرین پر لگائی جانے والی ضلع بندیاں اور فہرستیں محرم سے کم از کم دو ماہ پہلے جاری کی جائیں تاکہ مجالس کے شیڈول متاثر نہ ہوں۔ علامہ امامی نے مطالبہ کیا کہ شیعہ مساجد اور امام بارگاہوں کے قیام پر عائد غیر اعلانیہ رکاوٹوں کو فی الفور ختم کیا جائے اور وفاقی دارالحکومت کے تمام سیکٹرز اور ہاؤسنگ سوسائٹیز میں ان کے لیے پلاٹ فراہم کیے جائیں۔

علامہ بشارت حسین امامی نے انکشاف کیا کہ وفاقی دارالحکومت اور خصوصاً پنجاب میں ذکر حسینؑ کی مجالس پر سخت اور متنازعہ ایس او پیز نافذ کیے جا رہے ہیں جو آئینی و انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں۔ ان کے بقول، پرانی روایتی مجالس و جلوسوں کو بھی نئے پروگرام قرار دے کر اجازت نامے منسوخ کیے جا رہے ہیں اور منتظمین کے خلاف مقدمات قائم کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر مطالبات کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو ملک بھر میں شدید اضطراب اور انتشار جنم لے سکتا ہے جس کے سنگین نتائج ہوں گے۔ انہوں نے صدر مملکت، وزیر اعظم، چیف جسٹس پاکستان، آرمی چیف اور تمام محب وطن اداروں و شخصیات سے اپیل کی کہ وہ اس مسئلے کا سنجیدگی سے نوٹس لیں اور اہل تشیع کے آئینی و مذہبی حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں۔

About The Author

اپنا تبصرہ لکھیں