خلیجی عرب ریاستوں میں اس وقت شدید بے چینی پائی جا رہی ہے کیونکہ اسرائیل یا امریکہ کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر ممکنہ حملے کے نتیجے میں ماحولیاتی آلودگی اور ایران کی جوابی کارروائی کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔
عمان میں سوشل میڈیا اور میسجنگ ایپلی کیشنز پر شہریوں کو ہنگامی حالات سے نمٹنے کی ہدایات دی جا رہی ہیں، جن میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی جوہری واقعے کی صورت میں لوگ کھڑکیوں کے بغیر کسی بند محفوظ جگہ پر چلے جائیں، کھڑکیاں اور دروازے اچھی طرح بند کریں، اور ایئرکنڈیشنرز و وینٹیلیشن سسٹم بند کر دیں۔
سی این این کے مطابق، بحرین میں 33 ہنگامی پناہ گاہیں قائم کی جا رہی ہیں اور قومی سطح پر سائرن کا سسٹم بھی جانچ لیا گیا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے ذرائع ابلاغ کی جانب سے بھی شہریوں کو تابکاری سے بچاؤ کے لیے رہنمائی فراہم کی جا رہی ہے۔
ہارورڈ کینیڈی اسکول سے وابستہ بحرینی محقق الہام فاخرو نے کہا کہ “ماحولیاتی آلودگی کا خدشہ سب سے زیادہ ہے، خاص طور پر خلیج کی مشترکہ سمندری حدود میں۔” ان کے مطابق، “ایرانی جوابی کارروائیوں کا بھی خطرہ ہے، خاص طور پر خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں پر، جس کا اثر عام شہریوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔”
ایران کا بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ خلیج فارس کے ساحل پر واقع ہے اور یہ متعدد عرب دارالحکومتوں کے قریب ہے، جو کہ ایران کے دارالحکومت تہران سے بھی زیادہ قریب ہیں۔ اگر اس تنصیب پر حملہ ہوتا ہے تو خلیجی ممالک کے لیے پانی کا واحد ذریعہ یعنی سمندر سے حاصل کردہ صاف پانی آلودہ ہو سکتا ہے۔
قطر کے وزیراعظم محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے مارچ میں امریکی صحافی ٹکر کارلسن کو انٹرویو میں خبردار کیا تھا کہ اگر بوشہر پلانٹ پر حملہ ہوا تو “پانی مکمل طور پر آلودہ ہو جائے گا، نہ مچھلی بچے گی، نہ پانی، نہ زندگی۔” انہوں نے کہا کہ قطر میں اگر پانی کی سپلائی رُک جائے تو ملک تین دن میں خشک ہو جائے گا، اور یہی صورتحال کویت اور امارات جیسے دیگر خلیجی ممالک کی بھی ہوگی۔ قطر نے اس خطرے کے پیش نظر بڑے پیمانے پر پانی کے ذخیرے تعمیر کر لیے ہیں۔
خلیج تعاون کونسل (GCC) نے کویت میں موجود اپنے ہنگامی انتظامی مرکز کو فعال کر دیا ہے تاکہ ماحولیاتی اور تابکاری کی سطح پر حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جا سکے۔
متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید نے خبردار کیا کہ “ایسی غیر ذمہ دارانہ اور غلط انداز میں کیے گئے اقدامات جو ایران اور اسرائیل کی سرحدوں سے آگے اثر انداز ہوں، ان کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔” قطر نے بھی اسی قسم کے خدشات کا اظہار کیا ہے۔
اگرچہ خلیجی ممالک کو اب بھی محفوظ تصور کیا جاتا ہے اور یہاں غیر ملکی سرمایہ کار اور کارکن بڑی تعداد میں موجود ہیں، لیکن جنگ کے سائے میں بے چینی بڑھتی جا رہی ہے۔ ابوظہبی میں مقیم ایک امریکی خاتون نے کہا، “مجھے یہاں اپنی حفاظت پر مکمل اعتماد ہے، لیکن اگر امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو اس کے بعد کیا ہوگا، یہ سب غیر یقینی ہے۔”
دبئی میں مقیم ایک مصری خاتون نے کہا، “میں خود کو محفوظ محسوس کرتی ہوں، مگر جو خبریں آ رہی ہیں وہ تشویشناک ہیں۔ سب پریشان ہیں… اور جنگ اب قریب لگنے لگی ہے۔”
دریں اثنا، امریکی حکام کے مطابق سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کی تجویز کو سنجیدگی سے لینے لگے ہیں اور سفارتی حل سے بددل نظر آ رہے ہیں۔ “میں کر سکتا ہوں، نہیں بھی کر سکتا… کسی کو نہیں معلوم کہ میں کیا کرنے والا ہوں،” ٹرمپ نے بدھ کو کہا۔