اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے پاکستان میں سکول کے بچے کی جسمانی سزا کے نتیجے میں ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کے خلاف تشدد ناقابل قبول ہے جس کی روک تھام کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔
یونیسف نے واضح کیا ہے کہ سکولوں کو بچوں کے لیے محفوظ اور سیکھنے کی جگہیں ہونا چاہیے جہاں وہ پرورش پائیں اور تحفظ سے رہیں۔ اس واقعے سے پاکستان میں طلبہ اور والدین کا تعلیمی اداروں پر اعتماد مجروح ہوا ہے۔
یونیسف نے کہا ہے کہ ایسی سزا سے بچوں کو ناصرف جسمانی نقصان ہوتا ہے بلکہ اس سے ان پر طویل مدتی منفی نفسیاتی اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں۔
محفوظ ماحول میں تعلیم کا حق
یونیسف نے کہا ہے کہ ایسی سزا سے بچوں کو ناصرف جسمانی نقصان ہوتا ہے بلکہ اس سے ان پر طویل مدتی منفی نفسیاتی اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں جو اس کی ترقی اور بہبود کو متاثر کرنے کے علاوہ سیکھنے، آگے بڑھنے اور اپنی مکمل صلاحیتوں سے کام لینے کی راہ میں بھی رکاوٹ بنتےہیں۔
پاکستان کے سرکاری خبررساں ادارے (اے پی پی) کے مطابق ڈی پی او خیبر کے فوری نوٹس پر پولیس نے مرکزی ملزم کو ایک گھنٹے کے اندر گرفتار کرلیا۔خیبر پولیس کے مطابق جماعت پنجم کے طالب علم اتحاد ولد خیال مت خان ساکن سور کمر بھگیاری سکول پر اسمبلی کے دوران پرنسپل وقار احمد نے معمولی سی بات پر بہیمانہ تشدد کیا جس کے نتیجے میں ننھا طالبعلم شدید زخمی ہو گیا جس کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا مگر وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جان کی بازی ہار گیا۔
ڈی پی او خیبر رائے مظہر اقبال نے واقعہ کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ایس ایچ او جمرود نسیم خان کو فوری کارروائی کی ہدایت کی، صرف ایک گھنٹے کے اندر اندر پولیس ٹیم نے جدید خطوط پر تفتیش کرتے ہوئے مرکزی ملزم وقار احمد کو گرفتار کر کے حوالات منتقل کر دیا۔ڈی پی او رائے مظہر اقبال نے اپنے سخت ردعمل میں کہا کہ بچوں اور خواتین پر تشدد کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ استاد جیسے مقدس رتبے کو استعمال کرکے ظلم کرے۔