اسلام آباد، نوجوانوں، ماہرینِ صحت اور سول سوسائٹی نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ نوجوانوں کی صحت کے تحفظ کو ترجیح دے اور میٹھے مشروبات پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) میں اضافہ کرے۔ یہ مطالبہ ایک اہم مکالمے کے دوران سامنے آیا جو وزارت قومی صحت میں پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (PANAH) کے زیرِ اہتمام قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت اور نوجوان نمائندوں کے درمیان ہوا۔
یہ مکالمہ ایسے وقت میں منعقد ہوا جب وفاقی بجٹ 2025-26 کی تیاری حتمی مراحل میں ہے۔ اس موقع پر ماہرین نے میٹھے مشروبات کی صنعت کی جانب سے پھیلائی جانے والی گمراہ کن مہمات پر شدید تشویش کا اظہار کیا، جو ٹیکس میں اضافے کو معیشت اور سرمایہ کاری کے لیے نقصان دہ قرار دے کر اصلاحات کی راہ میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں۔
ماہر غذائیت و صحت پالیسی، جناب منور حسین نے کہا، “پاکستان اس وقت ایک صحت عامہ کی ہنگامی صورتحال سے دوچار ہے۔ روزانہ 1,100 سے زائد افراد ذیابیطس سے جان کی بازی ہار رہے ہیں، جبکہ سینکڑوں افراد کی ٹانگیں کاٹی جا رہی ہیں۔” انہوں نے بتایا کہ صرف ذیابیطس کے علاج پر سالانہ 2.6 ارب ڈالر سے زائد خرچ ہو رہے ہیں۔ “میٹھے مشروبات ذیابیطس، امراضِ قلب، جگر اور گردوں کی بیماریوں کا بڑا سبب ہیں، جن پر قابو پانے کے لیے ٹیکس ایک مؤثر ہتھیار ہے۔”
ورلڈ بینک کے مطابق، پاکستان میں میٹھے مشروبات پر 50 فیصد ٹیکس سے سالانہ 4.83 لاکھ زندگیوں کے معیار میں بہتری، 7 ملین ڈالر صحت کے اخراجات میں کمی اور اگلے 10 سال میں 51 ملین ڈالر سالانہ اضافی ٹیکس آمدنی ممکن ہے۔
نوجوان نمائندے نے واضح کیا کہ “میکسیکو، جنوبی افریقہ، پیرو جیسے ممالک میں تحقیق سے ثابت ہو چکا ہے کہ ان ٹیکسوں سے نقصان دہ مشروبات کی کھپت کم ہوتی ہے اور صحت مند متبادلات کو فروغ ملتا ہے۔ عالمی شواہد یہ بھی بتاتے ہیں کہ ان اقدامات سے روزگار یا معیشت کو کوئی نقصان نہیں ہوتا۔”
انہوں نے پُرزور سوال اٹھایا:
> “کیا ہماری قوم کی صحت کارپوریٹ منافع سے کم اہم ہے؟ کیا حکومت نوجوانوں کے مستقبل کو ترجیح دے گی یا صنعتوں کے مفادات کو؟”
PANAH کے جنرل سیکرٹری، ثناء اللہ گھمن نے اس موقع پر زور دیا کہ “پاکستان دنیا میں ذیابیطس کی شرح میں سرفہرست ہے — ہر تین میں سے ایک بالغ متاثر ہے۔ سعودی عرب، یو اے ای، قطر اور بھارت نے 40 سے 100 فیصد تک ٹیکس لاگو کر کے بیماریوں کا بوجھ کم کیا ہے، پاکستان میں یہ شرح ابھی بھی انتہائی کم ہے۔”
مکالمے کے اختتام پر نوجوانوں نے وزیر خزانہ، وزیر اعظم، ایف بی آر اور وزارتِ خزانہ سے مطالبہ کیا کہ وہ بجٹ میں میٹھے مشروبات پر ٹیکس میں فی الفور اضافہ کریں۔