غیر متعدی امراض پاکستان کی معاشی اور معاشرتی تبائی کی وجہ بن رہی ہیں۔ الٹرا پروسیس مصنوعات پر ٹیکس لگا کرغیر متعدی امراض کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ سیکریٹری جنرل پناہ ثناء اللہ گھمن
غیر متعدی امراض(NCDs) نہ صرف پاکستان میں اموات کی سب سے بڑی وجہ ہیں بلکہ پاکستان کی اکانومی پر بہت بڑا بوجھ ہیں جن کو کنٹرول نہ کیا گیا تو پاکستان میں بہت کارآمد لوگوں کے ضیا ع کے ساتھ ساتھ اکانومی کی خرابی میں دن بدن اضافہ ہو تا جائے گا اور ہم IMFسمیت باقی جگہوں سے لیے گئے قرضے صرف ان بیماریوں پر ہی لگاتے جائیں گے اور پاکستان پر قرضوں کے بوجھ میں مزید اضافہ ہوتا جائے گا جس سے ملک میں غربت مزید بڑھے گی اور عوام کی تکالیف میں مزید اضافہ ہوتا جائے گا۔ NCDsکے سیلاب کو روکنے کے لیے دنیا کے تجربات سے سیکھتے ہوئے ان کی وجہ بننے والے عوامل کی روک تھام کے لیے ثابت شدہ پالیسی ایکشن کی ضرورت ہے۔
سب سے بڑی وجہ ہماری غیر صحت مند خوراک ہے۔ اس کے استعمال کو کم کرنے کے لیے دنیا کی ثابت شدہ ٹیکس پالیسی کے مطابق ہمیں ضروریات زندگی پر ٹیکس لگا کر مزید مہنگا کرنے کی بجائے ان غیر ضروری الٹرا پروسیس مصنوعات اور بیماریوں کی وجہ بننے والی چیزوں پر ٹیکس لگانا چائیے جن پر پاکستان میں ٹیکس زیرو فیصد(0%) ہے جس سے اُن کے استعمال میں کمی آئے گی اور بیماریوں میں بھی کمی آئے گی۔اور اس سے نہ صرف کارآمد لوگوں کی اموات کو بچایا جا سکتا ہے بلکہ ہیلتھ برڈن کم ہو گا، ا کانومی میں بھی بہتری آئے گی اور ریوینیو بھی ملے گا۔جو حکومت ضروریات زندگی پرٹیکس لگاکر لیتی ہے جس کے نتیجہ میں مہنگائی بھی بڑھتی ہے۔ IMF کو حکومت کو الٹرا پروسیس مصنوعات پر ٹیکس کی طرف بھی توجہ دلانی چاہیے۔
سیکریٹری جنرل پناہ ثناہ اللہ گھمن نے میڈیا سےگفتگو کرتے ہوےکہا۔کے NCDs پاکستان کا بہت بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی ذیابیطس فیڈریشن (IDF) کی 2021 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں صرف ذیابیطس سے روزانہ تقریباً 1,100 اموات رہی ہیں اور اس کی مینجمنٹ کے لیے پاکستان کی سالانہ لاگت $2.64 بلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ پناہ NCDs کی روک تھام کے لیے لوگوں کو آگائی کے ساتھ ساتھ لاء اینڈ پالیسی میکر ز کے ساتھ مل کر اس مسئلے کو حل کرنے کی ہر سطع پر کوشش کر رہی ہے۔
دنیا کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پالیسی میکرز کو ایسے پالیسی اقدامات کی طرف بار بار توجہ دلا رہی ہے جس کو استعمال کرکے دنیانے اس مسئلے کو حل کیا جس میں سر فہرست ایسی چیزوں کو لوگوں کی پہنچ سے دور کرنے کے لیے ان پر ٹیکسوں میں اضافہ ہے اور یہ پالیسی بہت سے ممالک استعمال کر رہے ہیں۔ اس سے نہ صرف ان چیزوں کے استعمال میں کمی سے بیماریوں کا بوجھ کم ہو گا، ان پر اٹھنے والے اخراجات میں کمی آئے گی بلکہ ریوینیو بھی ملے گا اور ضروریات زندگی پر ٹیکس نہیں لگانا پڑے گا جس سے غربت میں بھی کمی آئے گی اور اکانومی بھی بہتر ہوگی۔IMF حکومتِ پاکستان کو الٹرا پروسیس مصنوعات جیسی غیر ضروری اشیاء پر بھی ٹیکس لگانے کی سفارشات کرے۔