یوکرین کے پاس روس کے طاقتور ترین بیلسٹک میزائلوں سے بچنے کا واحد طریقہ امریکہ کا تیار کردہ پیٹریاٹ ڈیفنس سسٹم ہے۔ تاہم، امریکہ کی جانب سے یوکرین کو فوجی سپلائی روکنے کے بعد، یہ میزائل سسٹمز جلد ہی گولہ بارود سے محروم ہو سکتے ہیں۔
امریکہ کی جانب سے فوجی سپلائی کی معطلی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز یوکرین کو فوجی سازوسامان کی ترسیل معطل کر دی، جس کے بعد کیف اور اس کے اتحادی ایک متبادل حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس فیصلے کے باعث یوکرین کے لیے شدید مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ اگرچہ امریکہ سے ملنے والے زیادہ تر ہتھیار دوسرے ذرائع سے حاصل کیے جا سکتے ہیں یا متبادل سے بدلے جا سکتے ہیں، لیکن پیٹریاٹ ڈیفنس سسٹمز کا کوئی متبادل موجود نہیں۔
پیٹریاٹ ڈیفنس سسٹمز کی اہمیت
یوکرینی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ سب سے بڑا مسئلہ فرنٹ لائن پر موجود فوجیوں کے لیے نہیں، بلکہ ان کے اہل خانہ اور شہروں کی حفاظت کے لیے پیٹریاٹ میزائلوں کی کمی ہے۔ انسٹی ٹیوٹ فار دی اسٹڈی آف وار کے ماہرین کے مطابق، پیٹریاٹ میزائلوں کی تیاری اور لائسنسنگ صرف امریکہ کے پاس ہے، جس کے باعث انہیں یورپ میں دوبارہ تیار کرنا مشکل ہے۔
یوکرین کے وزیراعظم ڈینس شمہال نے کہا، “یہ واحد نظام ہے جو روسی بیلسٹک میزائلوں کو روک سکتا ہے۔ اگر ہمیں پیٹریاٹ میزائل، ان کی مرمت اور دیکھ بھال میں مشکلات پیش آئیں، تو یوکرین کے شہروں کے تحفظ کے لیے یہ بڑا خطرہ ہوگا۔”
روس کے حملے اور یوکرین کی مشکلات
روس مسلسل بیلسٹک اور کروز میزائلوں سے یوکرین پر حملے کر رہا ہے، جس میں شہروں، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ماسکو کی جانب سے ہتھیاروں کا ذخیرہ مسلسل بڑھایا جا رہا ہے، جب کہ یوکرین اپنی کم ہوتی ہوئی فوجی سپلائی کے باعث مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ ایک یوکرینی اہلکار کے مطابق، یوکرین کے پاس پیٹریاٹ میزائلوں کا ذخیرہ چند ہفتوں میں ختم ہو سکتا ہے۔
پیٹریاٹ سسٹمز کی کمی اور ممکنہ متبادل
پیٹریاٹ سسٹم نہ صرف یوکرین کی فضائی دفاع کا اہم حصہ ہیں، بلکہ روسی حملوں کو ناکام بنانے میں بھی کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ نظام انتہائی مہنگا ہے، اور ہر میزائل کی قیمت تقریباً 4 ملین ڈالر تک ہے۔
متبادل کے طور پر NASAMS اور IRIS-T جیسے سسٹمز موجود ہیں، لیکن یہ بیلسٹک اور ہائپرسونک میزائلوں کو روکنے میں پیٹریاٹ کی برابری نہیں کر سکتے۔ ایک اور ممکنہ متبادل یورپی ساختہ SAMP/T سسٹم ہے، لیکن اس کی فراہمی میں بھی مشکلات ہیں۔
امریکہ کی فوجی امداد کا ممکنہ خاتمہ
امریکہ نہ صرف یوکرین کو پیٹریاٹ سسٹم فراہم کر رہا تھا بلکہ دیگر اہم فوجی سازوسامان جیسے کہ توپ خانے کے گولے، بکتر بند گاڑیاں، ہاوٹزرز اور ہائی مارز میزائل سسٹمز بھی دے رہا تھا۔ اگر یہ سپلائی رک گئی تو یوکرین کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
کیا یورپ اس خلا کو پُر کر سکتا ہے؟
یورپی ممالک یوکرین کو فوجی امداد فراہم کر رہے ہیں، لیکن وہ امریکی امداد کی کمی کو مکمل طور پر پورا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ یوکرین کے صدر زیلینسکی کے مطابق، یوکرین اپنی ضروریات کا صرف 30 فیصد مقامی پیداوار سے پورا کر سکتا ہے۔
نتیجہ
اگر یوکرین کو پیٹریاٹ میزائلوں کی مسلسل سپلائی نہ ملی، تو وہ روسی میزائل حملوں سے محفوظ نہیں رہ سکے گا۔ یورپ کو اس خلا کو پر کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنا ہوں گے، ورنہ یوکرین کے لیے دفاع کرنا مزید مشکل ہو جائے گا۔