ایران امریکہ ٹکراؤ: تہران کی وہ جنگی حکمت عملی جس نے پینٹاگون کو حیران کر دیا

خصوصی تجزیہ: عابد صدیق چوہدری
اسلام آباد: -28 فروری کو جب ایران پر مشترکہ کارروائی کا آغاز ہوا، تو واشنگٹن اور تل ابیب کا اندازہ تھا کہ یہ چند دنوں کا معرکہ ہوگا۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ تنازع ایک ایسی طویل جنگ میں بدل چکا ہے جس کا کوئی اختتام نظر نہیں آ رہا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جو ایران کو ‘پتھر کے دور’ میں بھیجنے کے دعوے کر رہے تھے، اب خود اپنے ہی بیانات اور اتحادیوں کے دباؤ میں گھرے نظر آتے ہیں۔

پاکستان کا امن مشن: خطے کو بڑی تباہی سے بچانے کی کوشش
اس سنگین بحران میں پاکستان کا کردار ایک ذمہ دار ایٹمی قوت اور امن پسند پڑوسی کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ پاکستان نے نہ صرف اس جنگ کی مذمت کی ہے بلکہ فعال سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی انتھک کوششیں کی ہیں:

ثالثی کا کردار: پاکستان نے شروع ہی سے تہران اور واشنگٹن کے درمیان ‘بیک چینل ڈپلومیسی’ کا آغاز کیا تاکہ ایک وسیع علاقائی جنگ کو روکا جا سکے۔ اسلام آباد کا موقف واضح ہے کہ طاقت کا استعمال مسئلے کا حل نہیں بلکہ مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں۔

انسانی ہمدردی اور عالمی دباؤ: میناب کے اسکول پر حملے جیسی انسانی المیے کی صورتحال پر پاکستان نے عالمی برادری کو متحرک کیا اور اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آواز بلند کی۔

اقتصادی استحکام کی حمایت: آبنائے ہرمز کی بندش سے پیدا ہونے والے تیل کے بحران کے حل کے لیے پاکستان نے برادر اسلامی ممالک اور چین کے ساتھ مل کر ایک متوازن موقف اپنایا ہے تاکہ عالمی معیشت کو مزید ڈوبنے سے بچایا جا سکے۔

ٹرمپ کا خطاب اور عالمی مارکیٹ کا اضطراب
حالیہ قوم سے خطاب میں صدر ٹرمپ نے ایران میں اسٹریٹجک اہداف کے حصول کا دعویٰ تو کیا، لیکن وہ کسی ٹھوس جنگی منصوبے کو پیش کرنے میں ناکام رہے۔ اس غیر یقینی صورتحال کا فوری اثر عالمی معیشت پر پڑا:

تیل کی قیمتیں: عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اسٹاک مارکیٹ: وال اسٹریٹ سے لے کر ایشیائی بازارِ حصص تک، ہر طرف مندی کا رجحان دیکھا گیا۔

ایران کا دفاعی ماڈل: توقعات کے برعکس ردعمل
مغربی ماہرین کے مطابق، ایران نے اپنی جنگی حکمت عملی کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے، جس کے باعث امریکہ کو درج ذیل محاذوں پر ہزیمت کا سامنا ہے:

قیادت کی تقسیم (Decentralized Command): ماہرِ دفاع سی ادے بھاسکر کے مطابق، ایران نے اپنی کمانڈ کو پورے ملک میں پھیلا دیا ہے۔ اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنائے جانے کے باوجود نچلی سطح کے کمانڈرز خود مختار فیصلے کر رہے ہیں۔

عوامی اتحاد: واشنگٹن کو توقع تھی کہ حملوں کے بعد ایرانی عوام سڑکوں پر نکل کر حکومت کا تختہ الٹ دیں گے، لیکن فضائی حملوں اور جانی نقصانات نے ایرانی قوم کو اپنی ریاست کے پیچھے مزید متحد کر دیا ہے۔

علاقائی جنگ (Asymmetric Warfare): حامد رضا عزیزی کا کہنا ہے کہ ایران نے اسے دو طرفہ جنگ کے بجائے ‘علاقائی تنازع’ بنا دیا ہے۔ اب امریکہ کو صرف ایک محاذ پر نہیں بلکہ عراق، لبنان اور خلیج فارس جیسے کئی مقامات پر مزاحمت کا سامنا ہے۔

نیٹو میں دراڑیں اور سفارتی تنہائی
اس جنگ نے امریکہ اور اس کے قریبی اتحادیوں (برطانیہ، فرانس، اٹلی اور کینیڈا) کے درمیان خلیج پیدا کر دی ہے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے نیٹو کو ‘کاغذی شیر’ قرار دینا اور اتحادیوں پر تعاون نہ کرنے کا الزام لگانا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ واشنگٹن اس وقت سفارتی طور پر تنہا ہو رہا ہے۔

کیا ٹرمپ یوٹرن لینے پر مجبور ہیں؟
ماہرِ امور برہما چیلانی کا تجزیہ ہے کہ جس حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے ٹرمپ نے جنگ شروع کی تھی، اب وہ اسی حکومت کے ساتھ ‘ٹروتھ سوشل’ پر مذاکرات کی باتیں کر رہے ہیں۔ یہ تبدیلی اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران کی ‘تھکا دینے والی جنگ’ اور پاکستان جیسے ممالک کی ‘امن پسندی’ نے امریکہ کو زمینی حقائق تسلیم کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

About The Author

اپنا تبصرہ لکھیں