اسلام آباد — وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے پاک چین اقتصادی راہداری (CPEC) کے پیچھے کارفرما حقیقی روح کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے ورکرز کو قوم کے “اصل ہیرو” قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک صرف سڑکوں اور پلوں کا نام نہیں بلکہ یہ عزم، استقامت اور ایک مشترکہ وژن کی علامت ہے جو پاک چین دوستی کو آگے بڑھا رہا ہے۔
وزیر منصوبہ بندی نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ سی پیک کی کامیابی ان ہزاروں محنت کشوں، انجینئرز اور ماہرین کی مرہونِ منت ہے جنہوں نے مشکل حالات میں بھی اپنے غیر متزلزل عزم سے اس خواب کو حقیقت کا روپ دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ افراد ہر لحاظ سے سی پیک کے اصل ہیرو ہیں۔
عزم اور مشترکہ وژن کی بنیاد
پروفیسر احسن اقبال نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور چین کے درمیان دوستی کا اصل محور وہ انسانی جذبہ ہے جو اس عظیم منصوبے کو مکمل کرنے کے لیے دن رات کوشاں ہے۔ ان کے بقول:
عزم (Commitment): تمام تر رکاوٹوں کے باوجود منصوبوں کو وقت پر مکمل کرنے کا جنون۔
استقامت (Resilience): مشکل جغرافیائی اور ماحولیاتی حالات کے باوجود کام جاری رکھنا۔
مشترکہ وژن: خطے میں معاشی خوشحالی اور ترقی کے لیے دونوں ممالک کا ایک پیج پر ہونا۔
معاشی تبدیلی میں افرادی قوت کا کردار
وفاقی وزیر نے کہا کہ سی پیک کے دوسرے مرحلے (Phase II) میں داخل ہوتے ہوئے، حکومت ان محنت کشوں کی فلاح و بہبود اور مہارت میں اضافے کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی صنعتی اور زرعی ترقی کی بنیاد وہی افرادی قوت ہے جو اس کئی ارب ڈالر کے منصوبے کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔
احسن اقبال نے مزید کہا کہ پاک چین “آل ویدر” تزویراتی شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے میں ان ہیروز کا کردار تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔