دبئی / کراچی – ایران میں جاری جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معاشی بحران نے عید الفطر سے چند روز قبل دبئی اور پاکستان کے درمیان مالیاتی رابطے کو شدید متاثر کیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور متحدہ عرب امارات (UAE) میں زندگی گزارنے کے بڑھتے ہوئے اخراجات کی وجہ سے لاکھوں پاکستانی تارکینِ وطن اس سال اپنے گھروں کو وہ “عید بونس” بھیجنے سے قاصر ہیں جس پر ان کے خاندانوں کا انحصار ہوتا تھا۔
مشرقِ وسطیٰ کے اس تنازع نے خلیجی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں، جس کے باعث وہاں مقیم محنت کشوں کی اجرتیں منجمد اور اخراجات دوگنا ہو گئے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ترسیلاتِ زر (Remittances) کی وہ شرح، جو عام طور پر رمضان کے آخری عشرے میں عروج پر ہوتی تھی، اس بار نمایاں طور پر گر گئی ہے، جس نے پاکستان میں موجود خاندانوں کو شدید معاشی دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
دبئی اور پاکستان کے درمیان معاشی تناؤ
دہائیوں سے دبئی اور پاکستان کے درمیان ترسیلاتِ زر کا راستہ پاکستانی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی رہا ہے۔ تاہم، موجودہ جغرافیائی سیاسی حالات نے سمندر پار پاکستانیوں کی ترجیحات بدل دی ہیں۔ اب وہ عید کے تحائف کے بجائے اپنی بنیادی بقا اور بچت پر توجہ دینے پر مجبور ہیں۔
تارکینِ وطن پر اثر: دبئی میں مقیم پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ ایندھن کی بڑھتی قیمتوں اور مکانات کے بلند کرایوں نے ان کی بچت ختم کر دی ہے، جس کی وجہ سے وہ عید کی خریداری کے لیے اضافی پیسے نہیں بھیج پا رہے۔
پاکستانی بازاروں میں سناٹا: کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں دکانداروں نے عید کی سیل میں بڑی کمی کی اطلاع دی ہے، کیونکہ بیرونِ ملک سے آنے والی رقم کے بغیر متوسط طبقے کی قوتِ خرید جواب دے گئی ہے۔
مہنگائی کا طوفان اور گرتی ہوئی آمدن
یہ بحران ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب پاکستان پہلے ہی اشیائے خوردونوش کی قیمتوں اور بجلی کے بھاری بلوں سے نبرد آزما ہے۔ متحدہ عرب امارات سے آنے والی رقم کے سہارے کے بغیر، اکثر خاندان عید کی روایتی خریداری ترک کرنے پر مجبور ہیں۔
عام طور پر رمضان کے اختتام پر نئے کپڑوں، جوتوں اور خصوصی پکوانوں کی تیاری کی جاتی تھی، لیکن اس سال توجہ صرف راشن جمع کرنے پر ہے۔ مالیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں جنگ طویل ہوئی، تو ترسیلاتِ زر میں یہ کمی پاکستان کی مجموعی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔