معاشی استحکام کی نوید: فروری 2026 میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ 427 ملین ڈالر سرپلس ریکارڈ

ایس آئی ایف سی (SIFC) کی کوششیں رنگ لائیں: براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 24 فیصد اضافہپاکستان کی معیشت بحالی کی راہ پر: آئی ٹی برآمدات اور زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں بہتری

The Enhanced Article (Urdu)
اسلام آباد – پاکستان کے معاشی اشاریے استحکام اور بحالی کے حوصلہ افزا آثار دکھا رہے ہیں۔ فروری 2026 میں پاکستان نے 427 ملین ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ریکارڈ کیا ہے، جو ملک کی بہتر ہوتی ہوئی مالیاتی صحت کی عکاسی کرتا ہے۔

اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کے مطابق، یہ مثبت رجحانات نہ صرف ملکی معیشت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کر رہے ہیں بلکہ عالمی سطح پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بھی بحال کر رہے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) میں ماہانہ بنیادوں پر 24 فیصد کا بڑا اضافہ دیکھا گیا ہے۔

برآمدات اور ترسیلاتِ زر میں نمایاں اضافہ
پاکستان کے اہم شعبوں نے فروری کے دوران بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے:

آئی ٹی برآمدات: آئی ٹی کے شعبے میں سالانہ بنیادوں پر 19 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کا ثبوت ہے۔

ترسیلاتِ زر: بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی گئی رقم میں سالانہ 11 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

زرمبادلہ کے ذخائر: فاریکس ریزرو میں بہتری اور بڑی صنعتوں (LSM) کی پیداوار میں اضافے نے معاشی آؤٹ لک کو مزید مستحکم کر دیا ہے۔

ایس آئی ایف سی (SIFC) کا کلیدی کردار
معیشت میں یہ بہتری SIFC کے زیرِ اہتمام کی جانے والی اصلاحات اور سرمایہ کاری کے لیے فراہم کردہ سہولیات کا نتیجہ ہے۔ ان اصلاحات کا مقصد معاشی رکاوٹوں کو دور کرنا اور بدلتے ہوئے عالمی و علاقائی حالات میں پاکستان کی معیشت کو لچکدار بنانا ہے۔

صنعتی شعبے میں بحالی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان اب پائیدار ترقی کی بنیاد رکھ رہا ہے۔ ان اقدامات سے نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ ملک میں معاشی استحکام کا تسلسل بھی برقرار رہے گا۔

About The Author

اپنا تبصرہ لکھیں