عراق کا آبنائے ہرمز سے تیل ٹینکر گزارنے کے لیے ایران سے رابطہ

اسلام آباد: عراق کے وزیرِ تیل عبد الغنی حیان نے منگل کے روز کہاکہ کی کہ ان کی حکومت ایران کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ عراقی تیل ٹینکرز کو ابنائے ہرمز کے راستے سے گزرنے کی اجازت دی جا سکے۔

العربیہ نیوز کی رپورٹ کے مطابق حیان عبدلغنی نے کہا کہ یہ اقدام اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ حالیہ حملوں کے بعد خام تیل کی برآمدات میں رکاوٹ کو کم کیا جا سکے، جبکہ کہ عراقی خبر رساں ایجنسی ”واع” نے بھی رپورٹ کیا ہے۔

عراق اوپیک (OPEC) کے ابتدائی ممالک میں شامل تھا، عراق نے ایران اسراییل جنگ کے آغاز پر تیل کی پیداوار کم کر دی تھی۔ اس وقت پیداوار تقریباً 1اعشاریہ2 ملین بیرل یومیہ ہے، جو کہ پہلے 4اعشاریہ3 ملین بیرل یومیہ تھی۔

عاقی وزیر عبد الغنی نے کہا عراق تیل برآمد کرنے کے لیے شام کی بندرگاہ بانیاس اور اردن کی بندرگاہ العقبہ کے ذریعے بولیاں ںشروع کرے گا۔اس وقت برآمدات رک گئی ہیں اور عراق بنیادی طور پر خام تیل کی برآمدات پر انحصار کرتا ہے اور وزارتِ تیل بڑی کوشش کر رہی ہے کہ جیھان بندرگاہ سے خام تیل برآمد کیا جاسکے۔

انہوں نے مزید کہا:ہم نے بانیاس (شام) اور العقبہ (اردن) کی بندرگاہوں کے ذریعے خام تیل برآمد کرنے کے لیے کوشش شروع کی ہے۔ آنے والے دو دنوں میں یہاں سے خام تیل کی برآمد کے ٹھیکے جاری کیے جائیں گے.چونکہ عراق اور شام یا العقبہ کے لیے پائپ لائن دستیاب نہیں، اس لیے خام تیل کی ترسیل کے لیے ٹینکروں کا استعمال کیا جائے گا۔

About The Author

اپنا تبصرہ لکھیں