اقوامِ متحدہ: صائمہ سلیم کی قیادت میں پاکستانی خواتین کی خود مختاری پر اہم مباحثہ

تعلیم اور مائیکرو فنانس: پاکستان میں صنفی مساوات کے لیے صائمہ سلیم کی اہم پیشکش

سی ایس ڈبلیو 70 (CSW70): پاکستانی مشن اور مسلم امریکن لیڈرشپ الائنس کی مشترکہ تقریب

اقوامِ متحدہ: صائمہ سلیم نے پاکستانی خواتین کی خود مختاری پر خصوصی تقریب کی نظامت کی
نیویارک — اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی ممتاز سفارت کار صائمہ سلیم نے “پاکستان میں خواتین کی خود مختاری: انصاف اور مساوات کے فروغ میں تعلیم اور مائیکرو فنانس کا کردار” کے عنوان سے ایک اہم تقریب کی نظامت کی۔ یہ تقریب خواتین کے مقام سے متعلق کمیشن (CSW) کے 70ویں سیشن کے موقع پر منعقد کی گئی، جس کا مقصد پاکستانی خواتین کو معاشی اور تعلیمی طور پر مضبوط بنانا تھا۔

تعلیم اور مائیکرو فنانس: ترقی کے دو ستون
اس خصوصی تقریب کا اہتمام اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن اور مسلم امریکن لیڈرشپ الائنس (MALA) نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ جب تک خواتین کو مالی وسائل اور جدید تعلیم تک رسائی حاصل نہیں ہوگی، معاشرتی انصاف کا خواب ادھورا رہے گا۔

تقریب کے دوران درج ذیل اہم نکات پر تبادلہ خیال کیا گیا:

مائیکرو فنانس کا اثر: چھوٹے قرضوں کے ذریعے دیہی خواتین کو اپنا کاروبار شروع کرنے کے قابل بنانا۔

تعلیمی اصلاحات: بنیادی تعلیم کے ساتھ ساتھ خواتین کے لیے ٹیکنالوجی اور پیشہ ورانہ مہارتوں کا حصول۔

انصاف اور مساوات: معاشی استحکام کس طرح خواتین کو قانونی اور سماجی حقوق حاصل کرنے میں مدد دیتا ہے۔

عالمی فورم پر پاکستان کی نمائندگی
صائمہ سلیم، جو اپنی بصری معذوری کے باوجود پاکستان کی فارن سروس میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہیں، نے بحث کو پالیسی سازی کی طرف موڑتے ہوئے کہا کہ پاکستان صنفی مساوات کے حصول کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ پاکستان میں خواتین کی ترقی کے منصوبوں میں تعاون بڑھائیں۔

اس نشست کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ تعلیم اور مالیاتی خود مختاری ہی وہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs) حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

1. صائمہ سلیم کون ہیں؟
صائمہ سلیم پاکستان کی پہلی بصری معذوری رکھنے والی سفارت کار ہیں۔ وہ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی کرتی ہیں اور انسانی حقوق بالخصوص خواتین اور معذور افراد کے حقوق کے لیے ایک توانا آواز سمجھی جاتی ہیں۔

2. سی ایس ڈبلیو (CSW) کیا ہے؟
یہ اقوامِ متحدہ کا ایک عالمی ادارہ ہے جو دنیا بھر میں خواتین کے حقوق، صنفی مساوات اور ان کی سماجی و معاشی خود مختاری کے لیے کام کرتا ہے۔ ہر سال اس کے اجلاس میں دنیا بھر سے نمائندے شرکت کرتے ہیں۔

3. مائیکرو فنانس خواتین کے لیے کیوں ضروری ہے؟
مائیکرو فنانس ان خواتین کو چھوٹے قرضے فراہم کرتا ہے جن کی رسائی بڑے بینکوں تک نہیں ہوتی۔ اس سے وہ اپنا چھوٹا کاروبار شروع کر کے اپنے خاندان کی کفالت کر سکتی ہیں اور معاشرے میں ایک معتبر مقام حاصل کر سکتی ہیں۔

About The Author

اپنا تبصرہ لکھیں