آبنائے ہرمز بحران: ایران نے پاکستان اور چین سمیت 8 ممالک کے لیے سمندری راستہ کھول دیا

عالمی ناکہ بندی کے درمیان ایران کا بڑا فیصلہ: مخصوص ممالک کو آبنائے ہرمز استعمال کرنے کی اجازت.تہران کی نئی پالیسی: کن ممالک کے جہاز آبنائے ہرمز سے گزر سکیں گے؟ مکمل تفصیلات ایران کا اسٹریٹجک فیصلہ: پاکستان اور چین سمیت 8 ممالک کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت
تہران — ایرانی حکومت نے عالمی سطح پر اہمیت کے حامل تجارتی راستے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے استعمال کے لیے مخصوص ممالک کو استثنیٰ دینے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور 15 مارچ 2026 کی تازہ ترین صورتحال کے مطابق، ایران نے واضح کیا ہے کہ پاکستان، چین اور روس سمیت 8 ممالک کے بحری جہازوں کو اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے کی مکمل اجازت ہوگی، جبکہ مغربی ممالک کے لیے پابندیاں برقرار رہیں گی۔

اجازت پانے والے ممالک کی فہرست
ایرانی وزارت خارجہ اور پاسداران انقلاب (IRGC) کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق، درج ذیل ممالک کے تجارتی اور مال بردار جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا:

بڑی عالمی طاقتیں: چین اور روس

علاقائی شراکت دار: پاکستان اور عراق

اسٹریٹجک اتحادی: شمالی کوریا، یمن، لبنان اور بنگلہ دیش

آبنائے ہرمز کی اہمیت اور ناکہ بندی کے اثرات
آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم بحری گزرگاہ ہے جہاں سے عالمی سطح پر فروخت ہونے والے تیل کا تقریباً 20 فیصد گزرتا ہے۔ ایران کی جانب سے ان 8 ممالک کو دی جانے والی یہ خصوصی رعایت “بحری سفارت کاری” کا حصہ سمجھی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تہران اس اقدام کے ذریعے اپنے اتحادیوں کے ساتھ تجارتی روابط برقرار رکھنا چاہتا ہے جبکہ امریکہ اور اس کے حامی ممالک پر معاشی دباؤ بڑھانا مقصود ہے۔

اگرچہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے اس ناکہ بندی کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے، تاہم تہران کا موقف ہے کہ یہ اقدامات قومی سلامتی کے لیے ناگزیر ہیں۔ بحری امور کے تجزیہ کاروں کے مطابق، اجازت یافتہ ممالک کے جہازوں کو بھی اس علاقے میں انتہائی احتیاط برتنا ہوگی کیونکہ خلیج میں فوجی موجودگی اور حادثاتی تصادم کے خطرات بدستور موجود ہیں۔

عالمی منڈی اور تیل کی قیمتوں پر اثر
اس اسٹریٹجک فیصلے نے عالمی توانائی کی منڈیوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ جہاں ایک طرف چینی ٹینکرز کو راستہ ملنے سے کچھ ریلیف ملا ہے، وہیں انشورنس کمپنیوں نے اس علاقے میں جہاز رانی کے خطرات کے پیش نظر پریمیئم میں ریکارڈ اضافہ کر دیا ہے۔ جن ممالک کا نام اس فہرست میں شامل نہیں ہے، انہیں طویل اور مہنگے متبادل راستے اختیار کرنے پڑ رہے ہیں، جس کی وجہ سے عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

About The Author

اپنا تبصرہ لکھیں