مارچ کو نیو نازی کیف رجیم نے بریانسک پر میزائل حملہ کر کے روس کے پُرامن شہریوں کے خلاف ایک اور سنگین اور بہیمانہ جرم کا ارتکاب کیا۔
ہم اس دانستہ سوچے سمجھے ، پیشگی منصوبہ بندی کے تحت کیے گئے دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ اس حملے میں رہائشی عمارتوں کے نزدیک واقع ایک مصروف تجارتی علاقے کو نشانہ بنایا گیا، جہاں تجارتی و صنعتی ادارے، کھانے پینے کے عوامی مراکز اور بچوں کے سامان کی دکانیں موجود تھیں ۔
اس حملے کے نتیجے میں چھ افراد جاں بحق اور 42 زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں 2009 میں پیدا ہونے والا ایک کم عمر نوجوان بھی شامل ہے، جسے بچوں کے ضلعی ہسپتال میں داخل کیا گیا ہے ۔ حکام متاثرین کو ضروری طبی اور دیگر امداد فراہم کر رہے ہیں۔ ہم جاں بحق افراد کے اہلِ خانہ اور لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہیں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں۔
دستیاب اطلاعات کے مطابق یہ حملہ برطانیہ کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے لگ بھگ سات اسٹورم شیڈو میزائلوں کے ذریعے کیا گیا۔ کیف حکومت کے سربراہ زیلنسکی نے اس وحشیانہ کارروائی کے بارے میں اپنے آقاؤں کو باقاعدہ رپورٹ پیش کی، اسے یوکرین کی مسلح افواج کی “کامیاب کارروائی” قرار دیا، اور اس کی انجام دہی پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
ہم بارہا اس امر کی وضاحت کر چکے ہیں کہ جدید مغربی ہائی ٹیک ہتھیار غیر ملکی ماہرین کی عملی معاونت کے بغیر استعمال نہیں کیے جا سکتے، جو ان کے آپریشن اور ہدف بندی کو یقینی بناتے ہیں، اور بعض نیٹو ممالک کی فراہم کردہ انٹیلی جنس معاونت کے بغیر بھی ان کا مؤثر استعمال ممکن نہیں۔ لہٰذا کیف کے مغربی سرپرست اس حملے اور اس کے نتیجے میں ہونے والے شہری جانی نقصان کے لیے مکمل طور پر ذمہ دار ہیں۔
یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ برطانیہ جغرافیائی اور سیاسی چالوں میں بری طرح الجھ چکا ہے اور یوکرین محاذ پر یورپی جنگ باز ممالک کے غیر رسمی سرغنہ اور روس کے سخت ترین مخالف کے طور پر اپنا مقام مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں برطانیہ نے بین الاقوامی قانون کی دھجیاں اڑائی ہیں اور وہ اپنے کٹھ پتلی عناصر کو استعمال کرتے ہوئے اس تنازعے کو تباہی اور جانی نقصان کے اعتبار سے ایک بالکل نئی سطح تک لے جانے کے لیے تیار ہے۔
ہم نے یہ بھی نوٹ کیا ہے کہ برطانوی ہتھیار ایسے وقت استعمال کیے گئے جب یوکرینی بحران کے حل کے لیے روس، امریکہ اور یوکرین کے سہ فریقی فارمیٹ میں سیاسی اور سفارتی حل کی کوششیں تیز ہو رہی ہیں۔
لندن اور دیگر مغربی دارالحکومتوں کا واضح مقصد یہ ہے کہ شہری ہلاکتوں پر مشتمل ایک بڑے پیمانے کی اشتعال انگیزی کے ذریعے امن عمل کو سبوتاژ کیا جائے اور کشیدگی میں مزید اضافہ کیا جائے۔ یہ ایک آزمودہ حربہ ہے، جسے کیف حکومت کے سرپرست ہر اس موقع پر بروئے کار لاتے رہے ہیں جب تصفیے کا امکان نمایاں ہونے لگتا ہے۔
یہ بھی محض اتفاق نہیں کہ یہ حملہ ٹھیک ایسے وقت کیا گیا جب واشنگٹن کی جانب سے یہ اشارہ دیا گیا تھا کہ تنازع ایک فیصلہ کن مرحلے کے قریب ہے اور امن کا حصول پوری طرح ممکن ہے۔
ہم متعلقہ بین الاقوامی تنظیموں، بالخصوص اقوامِ متحدہ، جس کی قیادت کو صورتِ حال سے آگاہ کیا جا چکا ہے مگر جس کی جانب سے تاحال کوئی ردِّعمل سامنے نہیں آیا، پر زور دیتے ہیں کہ وہ کیف حکومت کی اس تازہ مجرمانہ کارروائی کا مناسب جائزہ لیں، جو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انجام دی گئی ہے۔ ایسی خاموشی کو زیلنسکی اور اس کے آقاؤں کی ان مجرمانہ کارروائیوں کی درپردہ تائید کے سوا کچھ نہیں سمجھا جائے گا، جو اس تنازعے کو مزید بھڑکانے کے درپے ہیں۔